حکومت غریب مزدور طبقے کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے ، عنبرین کامل

کم سے کم ماہانہ اجرت کو بڑھاکر 17ہزار500روپے کردیا ہے جبکہ سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت رواں مالی سال 2019-20کے دوران محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو مالی فوائد اور طبی سہولتوں کی فراہمی پر 4 ارب 30 کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کی جارہی ہے ڈائریکٹر سندھ ایمپلائزسوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن

جمعہ نومبر 23:42

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 نومبر2019ء) سندھ ایمپلائزسوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کی ڈائریکٹرکنٹری بیوشن اینڈ بینیفٹ عنبرین کامل نے کہا ہے کہ حکومت غریب اور مزدور طبقے کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے کم سے کم ماہانہ اجرت کو بڑھاکر 17ہزار500روپے کردیا ہے جبکہ سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت رواں مالی سال 2019-20کے دوران محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو مالی فوائد اور طبی سہولتوں کی فراہمی پر 4 ارب 30 کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کی جارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوشل سیکورٹی ولیکا ہسپتال میں ’’سوشل سیکورٹی اسکیم کے فوائد‘‘ کے عنوان پرمنعقدہ تیسرے اور آخری ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ سوشل سیکورٹی اسکیم محنت کشوں کی فلاح کی سب سے بڑی اسکیم ہے جو کہ سہ فریقی بنیادوں پر کام کرتی ہے جس میں محنت کشوں، آجران اور حکومت فریق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ محنت کشوں کو اس اسکیم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ تینوں فریقوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہو اور اس طرح کے سمینار اس ضمن میں اہم کردار اد کرتے ہیں۔

انہوں نے آجران سے کہا کہ وہ اپنے تمام محنت کشوں کو سوشل سیکورٹی اسکیم میں رجسٹر کروانے کو یقینی بنائیں تاکہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو سہولیات کی فراہمی ممکن ہوسکے۔ عنبرین کامل نے کہاکہ اس وقت سیسی میں 6لاکھ25ہزارسے زائد محنت کش اور ان کے 30لا کھ سے زائد لواحقین اسکیم کے فوائد حاصل کررہے ہیں۔ مزدور اتحاد کے رہنما ارشاد بھٹو نے مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سوشل سیکورٹی اسکیم سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی مرہون منت ہے اور انہوں نے مزدوروں کیلئے یہ اسکیم شروع کرکے ایک انقلابی فیصلہ کیا جبکہ صوبائی وزیرمحنت سعید غنی اس اسکیم کو فروغ دینے کیلئے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں۔

انہوں نے مزدوروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کو سوشل سیکورٹی کے تمام دفاتر میں ون ونڈو سہولت فراہم کی جائے۔ اس سے پہلے ولیکا ہسپتال کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹ ڈاکٹراعظم خان نے سیمینار کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرمحنت کی خصوصی ہدایت پر صوبے بھر میں سوشل سیکورٹی اسکیم کے فوائد پہنچانے اور محنت کشوں کو اسکیم میں رجسٹر کرنے پر پوری توجہ دی جارہی ہے۔

اس سلسلے میں گذشتہ دنوں اسی سلسلے کے دو آگہی سیمینار کوٹری/ حیدرآباد اور سکھر میں منعقد ہوچکے ہیں اور آج یہ اس سلسلے کا تیسرا سیمینار ہے۔ قبل ازیں سندھ سوشل سیکورٹی کے ڈائریکٹرٹریننگ منصور معطر نے سیمینار کے آغاز میں بتایا کہ مجموعی طور پر یہ اس سلسلے کا 92واں پروگرام ہے جبکہ کراچی کے محنت کشوں اور آجران کے لئے یہ 47واں پروگرام ہے جس میں کراچی کے مختلف صنعتی اور تجارتی اداروں سے 100 سے زائد ورکرز اور آجران کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سمینار سے ڈائریکٹرکنٹری بیوشن اینڈ بینیفٹ عنبرین کامل اور ڈاکٹراعظم خان نے سوشل سیکورٹی اسکیم میں رجسٹریشن کے طریقہ کار اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے لیکچردیئے جبکہ شرکائ میں بڑی تعداد میں محنت کشوں اور آجران کے نمائندے بھی شامل تھے۔#

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments