کروناوائر س کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کے باعث کمرشل امپورٹرز درآمدی خام مال بندرگاہ سے اٹھانے سے قاصر ہیں،پی سی ڈی ایم اے

بندرگاہ پر درآمدی مال کے ڈھیر لگ گئے ،اس سے نہ صرف بندرگاہ پر رش بڑھ جائے گا بلکہ صنعتوں باالخصوص ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور سینی ٹائرز کے خام مال کی فراہمی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے، امین یوسف بالاگام والا

جمعرات مارچ 22:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 مارچ2020ء) پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم ای) کے چیئرمین و سابق ڈائریکٹر کراچی اسٹاک ایکسچینج امین یوسف بالاگام والانے کہا ہے کہ کروناوائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کے باعث کمرشل امپورٹرز درآمدی خام مال بندرگاہ سے اٹھانے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے بندرگاہ پر درآمدی مال کے ڈھیر لگ گئے ہیں جس سے نہ صرف بندرگاہ پر رش بڑھ جائے گا بلکہ صنعتوں باالخصوص ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور سینی ٹائرز کے خام مال کی فراہمی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے۔

امین یوسف بالاگام والا نے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی سے پورٹ چارجزکو لاک ڈاؤن کی جہ سے کم ازکم ایک سے 2ماہ کے لیے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج اور بینکوں کو دی گئی خصوصی اجازت کی طرح کمرشل امپورٹرز کو بھی درآمدی مال اٹھانے کے لیے بندرگاہ تک رسائی دینے کی درخواست کی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ بندرگاہ اور کسٹم کھلا ہے لیکن کمرشل امپورٹرز کرونا وائرس کے باعث پیدا سنگین صورتحال اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے مال نہیں اٹھا پارہے جس کی وجہ سے درآمدی مال پر ڈیمرج اور دیگر چارجز لاگو ہورہے ہیں اور اس کے نتیجے میں کمرشل امپورٹر زکی لاگت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہاہے ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کمرشل امپورٹرز ڈیمرج ، جرمانے و دیگر چارجزادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے بلکہ اگر یہی صورتحال رہی تو کمرشل امپورٹرزکے لیے کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہوجائے گا کیونکہ انہیں سرمائے کی شدیدقلت کا سامنا ہے۔ ایک طرف صنعتیں بند ہیں تو دوسری طرف مارکیٹوں کو تالے لگے ہیں جس کی وجہ سے کمرشل امپورٹرز کا سرمایہ پھنس کر رہ گیا ہے۔

ان حالات میںبرآمدکنندگان اور مینوفیکچررز سے کس طرح بقاجات وصول کریں لہٰذا تجارت و صنعت کے بہتر ترین مفاد میں مختلف ٹرمینل کے پی ٹی ،پی آئی سی ٹی،کے آئی سی ٹی،ایس اے پی ٹی اے کے تمام چارجزسمیت جی ڈی فائلنگ میں تاخیر پر چارجز بھی کم ازکم ایک سے دو ماہ کے لیے ختم کیے جائیں نیز لاک ڈاؤن کی مدت تک بینک چارجز بھی ختم کیے جائیں۔#

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments