حکومت سندھ کا مزید 168 وینٹی لیٹر خریدنے کا فیصلہ

چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت کرونا وائرس ایمرجنسی فنڈ کا اجلاس، فنڈ سے مزید لیباریٹری آلات، مشینری اور دیگر میڈیکل آلات خریدنے کیلئے 237 ملین روپے کی منظوری

ہفتہ مئی 00:07

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 مئی2020ء) کرونا وائرس ایمرجنسی فنڈ کا چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں چیئرمین چیف منسٹر اسپیکشن ٹیم احسن منگی، کرونا وائرس ایمرجنسی فنڈ کے اراکین صوبائی سیکریٹری خزانہ سید حسن نقوی، سیکریٹری صحت زاہد علی عباسی، انڈس اسپتال کے سی ای او عبدالباری خان اور ڈی جی پی ڈی ایم اے سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں صوبے کے اسپتالوں کے لئے 168 وینٹیلیٹر خریدنے کے لئے پی ڈی ایم اے فنڈ سے 466 ملین روپے کی منظوری دی گئی، اجلاس میں کرونا وائرس ایمرجنسی فنڈ سے مزید لیباریٹری آلات، مشینری اور دیگر میڈیکل آلات خریدنے کے لئے 237 ملین روپے کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ کرونا وائرس ایمرجنسی فنڈ میں اب تک 3 ارب 61 کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں اور کرونا وائرس ایمرجنسی فنڈ سے اب تک 1 ارب 5 کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے ہیں جس سے میڈیکل آلات، ایکسپو سینٹر کراچی اور پی اے ایف میوزیم فیلڈ آئیسولیشن سینٹر قائم ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے سیکریٹری صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وینٹیلیٹر اور دیگر مشینری جیسے ہی موصول ہو انکو اسپتالوں میں انسٹال کیا جائے۔اور وینٹیلیٹر کی انسٹالیشن کا پلان بنایا جائے جس کو پی ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے، چیف سیکریٹری سندھ نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی، نیو کراچی، قطر اسپتال اور عباسی شہید میں بھی کرونا وارڈ بنائے جائیں اور ڈائو اسپتال کے ڈینٹل وارڈ کو بھی کووڈ19 کے لئے مختص کرنے کے لئے بھی ضروری کاروائی کی جائے، انہوںنے مزید کہا کہ صوبے کے اسپتالوں کے آئی سی سی اور ایچ ڈی یوز کو بھی اپگریڈ کیا جارہا ہے، چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے مزید کہا کہ کرونا وائرس ایمرجنسی فنڈ کو سیلز ٹیکس سے چھوٹ دینے لئے وفاقی حکومت کو لکھا گیا ہے، اجلاس میں سیکریٹری صحت نے بتایا کہ فنڈ کے زریعے خریدے گئی تمام آلات کی غیر جانبداری اداروں کے زریعے انسپکشن اور آڈٹ کی جارہی ہے انہوںنے کہا کہ نئی بھرتی ہوئے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے بھی جوائن کر لیا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ جو وینٹیلیٹر پہلے خریدے گئے تھے انکی ڈیلیوری 25 جون کو ہوجائے گی۔ انہوںنے مزید بتایا کہ 38 ڈاکٹروں نے بھی خود کو پی ڈی ایم اے کے پاس والینٹر رجسٹرڈ کیا ہے، جس پر چیف سیکریٹری سندھ نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ ان ڈاکٹروں کی بھی خدما ت لی جائیں، اجلاس میں چیئرمین چیف منسٹر اسپیکشن ٹیم نے بتایا کے فنڈ سے خریدے گئے میڈیکل آلات کی شفاف فراہمی کی سی ایم آئی ٹی نگرانی کر رہا ہے، اور وہ اس حوالے سے ایک جامع رپورٹ جلد پیش کریں گے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments