qکراچی شہر پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کا شہر ہے،شاہی سید

ّ آج اللہ کے فضل وکرم سے اس شہر میں آمن قائم ہوچکا ہے،کراچی صوبے کا مطالبہ کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ اانہوں نے آج تک اسمبلیوں میں صوبے کے لیئے آواز کیوں نہیں اٹھائی،صدر اے این پی سندھ کا ورکرز کنونشن سے خطاب

اتوار ستمبر 23:45

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 ستمبر2020ء) اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے اے این پی ڈسٹرکٹ سینٹرل کے تحت منعقدہ عظیم الشان ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کا شہر ہی. اس شہر کی پہچان ایک زمانے میں شاعر،ادیب اور ڈاکٹر ہوا کرتے تھے۔ افسوس ایک سازش کی تحت اس شہر کے لوگوں کی پہچان کو دہشت گردوں سے بدل دیا گیا۔

(جاری ہے)

آج اللہ کے فضل وکرم سے اس شہر میں آمن قائم ہوچکا ہی.

اب وہ سیاسی جادوگر جنہوں سے اس شہر کو اندھیروں میں دھکیلا وہ سیاسی آداکار ایک بار پھر اس شہر کے باشعور شہریوں کو صوبے کے نام پر بے وقوف بنانا چاہتے ہیں. آج کے اس کنونشن کے توسط سے ہم ان سیاسی اداکاروں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کراچی کے شہریوں کو مزید بے وقوف نہ بنایا جائی. کراچی صوبے کا مطالبہ کرنے والوں سے پوچھا جائی. کہ اانہوں نے آج تک اسمبلیوں میں صوبے کے لیئے آواز کیوں نہیں اٹھائی.

آج تک کراچی کے ان نام نہاد دعویداروں نے اسمبلیوں میں کتنی بار صوبے کا بل پیش کیا ہی صرف عوام کے سامنے مگرمچھ کے آنسوں بہانے سے صوبے نہیں بنتی. کراچی کے باشعور شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ نفرت کی سیاست کا شکار نہ ہوں. کراچی شہر کے مسائل محبت اتحاد اور عدم تشدد کے زریعے پر آمن طریقے سے حل ہوسکتے ہیں. کراچی کے مسائل کا حل الگ صوبہ نہیں بلکہ شفاف اور آزاد الیکشن ہی.

ایک آزاد اور بااختیار بلدیاتی حکومت ہی اس شہر کے مسائل کو بہتر طور پر حل کرسکتی ہی. کراچی کے مسائل کا حل کراچی کے شہریوں کے پاس ہی. اس شہر کے مسائل وہ لوگ حل نہیں کرسکتے ہیں. جن کو اس شہر کے مسائل کا علم نہ ہوں. جب تک کراچی کی قسمت کے فیصلے لاڑکانہ یا اسلام آباد میں ہونگی. اس وقت تک اس شہر کے مسائل حل نہیں ہوسکتی. کراچی شہر سب سے زیادہ ریونیوں دینے والا شہر ہی.

لیکین آفسوس اس شہر میں پچھلے کء سالوں سے کوء نیا ہسپتال یا یونیورسٹی تعمیر نہیں ہوئ.شاہی سید کا آپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ کراچی کے رہنے والے پختون اس شہر میں بھائیوں کی طرح برابری کی بنیاد ہر آپنی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں. کراچی شہر کی تعمیر اور ترقی کے لیئے اس شہر میں بسنے والے پختونوں نے پہلے بھی قربانیاں دی ہیں. اور آئندہ بھی اس شہر کی تعمیر اور ترقی کی خاطر پختون ہر قسم کی قربانی دینے کے لیئے تیار ہیں.

بدلے میں پختون صرف عزت کی زندگی چاہتے ہیں. بورڈ آفس سے اورنگی تک زیر تعمیر اورنج لائن منصوبہ کافی عرصے سے نامکمل ہی. اس منصوبے کی جلد سے جلد تکمیل کا مطالبہ کرتے ہیں. اس منصوبے کی تعمیر میں عبداللہ کالج سے اورنگی پانچ نمبر تک نہ تو کوء انٹرچینج دیا گیا ہی. اور نہ ہی کوء بس اسٹاپ اب تک اس منصوبے میں شامل ہی. بورڈ آفس سے اورنگی پانچ نمبر تک لاکھوں کی آبادی کا اس منصوبے سے محروم رہنے کا خدشہ ہی. حکومت اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس منصوبے میں عبداللہ کالج سے اورنگی پانچ نمبر تک دو سے تین بس اسٹاپ اور ایک انٹرچینج تعمیر کیا جائی. تاکہ آطراف کی لاکھوں آبادی مستقبل میں اس منصوبے سے مستفید ہوسکی.

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments