سندھ ہائی کورٹ نے فائر قوانین نہ ہونے سے متعلق ایڈووکیٹ ندیم اے شیخ کی درخواست پر بلڈنگز کی انسپیکشن سے متعلق میکزم طلب کرلیا

بدھ نومبر 20:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 نومبر2020ء) کراچی سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں مشتمل بینچ نے فائر قوانین نہ ہونے سے متعلق جسٹس ہیلپ لائن کے سربراہ ایڈووکیٹ ندیم اے شیخ کی درخواست پر سماعت کی، کمشنر کراچی،سول ڈیفنس نے جواب عدالت میں جمع کرادیا جواب میں بتایا کے کمشنر کراچی کے دفتر میں فائر ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے فائر ایمرجنسی کنٹرول روم عوام کی مدد اور معاونت کرے گا کنٹرول روم 24 گھنٹے عوام کی شکایت کا ازالہ کرے گا۔

ڈائریکٹر انفارمیشن سندھ کو اس حوالے سے معلومات اخباروں میں شائع کرانے کیلئے خط لکھ دیا گیا، جس پر عدالت نے ایس بی سی اے حکام سے استفسار کیا کے ایسی بلڈنگز جہاں ایمرجنسی ڈور نہ ہو ان این او سی کیسے جاری کردیتے ہیں بلڈنگ کمپلیشن سرٹفیکٹ کیسے جاری کردیتے ہیں۔

(جاری ہے)

آپ لوگ جس پر ایس بی سی اے حکام نے بتایا کے ہم لوگ کام کررہے ہیں مستقبل میں مزید بہتری آئی گی، بہت سارے لوگ بلڈنگ کمپلیشن سرٹفیکٹ لیتے ہی نہیں ہیں چیف فائر آفیسر نے عدالت میں انکشاف کردیا کے کراچی میں 22 فائر کنٹرول روم موجود ہیں جبکہ 30 گاڑیاں فائر بریگیڈ کی خراب ہیں اس وقت 14 گاڑیوں سے پورے شہر کو چلا رہے ہیں ہر ایک اسٹیشن پر چار گاڑیاں ہونی چاہئیں مگر نہیں ہیں، سول ڈیفنس کے نمائدے نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی کمرشل اور رہائشی عمارت کو فائر سیفٹی لائز پورے کئے بغیر بلڈنگ کمپیلشن سرٹفیکٹ جاری نہ کیا جائے، بڑی بڑی بلڈنگز میں ایمر جنسی ایگزٹ نہیں بنائے گئے ہیں،جس پر عدالت نے بلڈنگز کی انسپیکشن سے متعلق میکزم طلب کرتے ہوئے سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی، عدالت نے کمشنر کراچی سے فائر برگیڈ کی 30 خراب گاڑیوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی، ایڈووکیٹ ندیم اے شیخ نے اپنی درخواست میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور سب سے زیادہ ریوینیو دینے والے کراچی میں فائر سیفٹی ایکٹ یا کوئی بھی قانون موجود نہیں ہے۔

عدالت میں ایڈیشنل کمشنر کراچی جناب روشن، ایڈیشنل کمشنر جنرل اعجاز حسین بلوچ رند، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سائوتھ جنید اقبال، ایس مائیکل ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر شہریار مہر اور دیگر اعلیٰ حکام سمیت ڈائریکٹر سول ڈیفنس شاہد مسرور، چیف فائر آفیسر مبین احمد اور دیگر اعلیٰ حکام کی کثیر تعداد نے اس اہم مقدمے میں شرکت کی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments