کراچی کی مختلف مارکیٹوںکے نمائندوںکاہفتہ میں دو روز کاروباری مراکز بند کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جمعہ کوتمام کاروبار کھولنے کا اعلان

کراچی کے لئے جو بھی فیصلہ کیا جائے وہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت سے کیا جائے،جرمانے عائد کئے جارہے ہیں ،بتایا جائے یہ پیسہ کہاں جارہا ہے،رضوان عرفان

جمعرات نومبر 21:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2020ء) کراچی کی مختلف مارکیٹوںکے نمائندوںنے ہفتہ میں دو روز کاروباری مراکز بند کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جمعہ کے روز شہر میںتمام کاروبار کھولنے کا اعلان کردیا ہے ۔

(جاری ہے)

کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان عرفان،سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ ،طارق روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر الیاس میمن اور دیگر مارکیٹوںکے نمائندوں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سندھ میں اچانک ہی صوبائی حکومت کا ڈنڈا چل جاتا ہے ،پورے ملک میںکاروباری مراکز رات دس بجے بند ہورہے ہیں جبکہ سندھ میں شاہی احکامات ہیںکہ شام چھ بجے بازار بند کردیئے جائیں،کیا پورے ملک میںکورونا مختلف اور سندھ میںمختلف نوعیت کا ہے اس موقع پر تاج رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کراچی میںجان بوجھ کر پولیس اور تاجروں کو آمنے سامنے لایا جارہا ہے اور بلا جواز کراچی کے تاجروں کو تنگ کیا جارہا ہے ،ہم جمعہ اور اتوار کے روز اپنا کاروبار ہر گز بند نہیںکرینگے اور اگر ہمیںتنگ کیا گیا تو تاجر مارکیٹوں کے سامنے دھرنا دینگے،صڈر مارکیٹ کے صدر جمال عبدالصمد نے کہا کہ تاجر بدحالی کا شکار ہوگئے ہیں،گزشتہ لاک ڈائون میں کرائے نہیں دے سکے لیکن ایک بار پھر لاک ڈائون اور دکانیں شام 6 بجے بند کا حکم سراسر زیادتی ہے، رضوان عرفان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے غلط نوٹیفکیشن نکالا ،ہم مارکیٹوں کے اوقات کار مسترد کرتے ہیں،ہماری گوشت دودھ کی دکانیں نہیں بلکہ الیکٹرونکس آئٹم فروخت کرتے ہیں،حکومت سندھ صبح 10 سے رات 8 بجے تک اوقات کار کرے،ہم نے ناصر شاہ اور مرتضی وہاب کو فون کیا مگر کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہے،تاجروں کو ہفتے میںدو چھٹیاں کسی طور پر قابل قبول نہیں ہیں، حکومتی اداروں کو بتانا چاھتا ہوں تاجروں کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے اورتمام تاجروں کو بلا کر مذاکرات کریں،جمعہ کو کسی طور پر مارکیٹیں بند نہیں کرینگے،کراچی اور حیدرآباد میں صرف شام 6 بجے دکانیں بند کی جارہی ہیں،وزیراعلی سندھ فوری طور پر نوٹس لیں،کراچی کے لئے جو بھی فیصلہ کیا جائے وہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت سے کیا جائے،جرمانے عائد کئے جارہے ہیں ،بتایا جائے یہ پیسہ کہاں جارہا ہے،بلاول بھٹو اور وزیراعلی سندھ سے درخواست ہے کہ تاجروں میں لاوا پک رہا ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments