سندھ اسمبلی،ظفر اللہ جمالی ،جام مدد ،عادل صدیقی ،جادم منگریو ،نوازشریف کی والدہ اور خادم رضوی کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی

اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ، ایوان نے رکن اسمبلی جام مدد علی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک قرارداد بھی منظور کرلی کورونا وائرس کے سبب بیشتر ارکان ایوان سے غیرحاضررہے،صورتحال کی سنگینی کے باعث بعض صوبائی وزرابھی ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے

جمعہ دسمبر 18:54

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 دسمبر2020ء) سندھ اسمبلی نے جمعہ کو اپنے اجلاس میں سابق وزیراعظم میرظفراللہ جمالی اور رکن سندھ اسمبلی جام مدد علی خان، سابق وزیر مملکت فقیر جادم منگریو،سابق صوبائی وزیر عادل صدیقی،سابق وزیر اعظم نواز شریف کی والدہ ، علامہ خادم حسین رضوی اور وزیر اعلی کے معاون خصوصی راشد ربانی کے انتقال پر ان کے لئے دعائے مغفرت اور فاتحہ خوانی کی جبکہ صوبائی وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ کے چچا کے انتقال پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ایوان نے رکن اسمبلی جام مدد علی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک قرارداد بھی منظور کرلی۔

اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ۔کورونا وائرس کے سبب بیشتر ارکان ایوان سے غیرحاضررہے۔

(جاری ہے)

صورتحال کی سنگینی کے باعث بعض صوبائی وزرابھی ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے تاہم ایوان کے معمر ارکان سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی اجلاس میں شریک تھے۔ایوان میں فاتحہ خوانی کے موقع پر پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی رابستان خان نے کہا کہ اللہ پاک کورونا کی وبا سے پوری دنیا کو محفوظ رکھے۔

وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ نے اسپیکر سے درخواست کی کہ رکن سندھ اسمبلی جام مدد علی کی وفات پر ایوان کامعمول کا ایجنڈا معطل کرکے مرحوم کو خراج عقیدت کے لئے قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے ۔قرارداد وزیرپارلیمانی امور مکیش کمار نے پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ جام مدد علی کی جمہوریت کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔اس موقع پر وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے مرحوم جام مدد علی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے وضع دار تھے اور اہم سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ سیاسی مخالفین بھی جام مدد علی کا احترام کرتے تھے۔ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔سعید غنی نے کہا کہ ان سے آخری ملاقات امتیاز شیخ کے گھر پر ہوئی تھی ۔ہمیں معلوم ہوا تھا کہ جام مدد علی صحت یاب ہوگئے ہیںلیکن اسپتال سے ڈسچارج ہونے سے کچھ دیر قبل ان کے طبیعت اچانک پھر بگڑ گئی۔وزیرزراعت اسماعیل راہونے کہا کہ جام مدد علی کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

وہ عام لوگوں کی بہت خدمت کرتے تھے۔جو دکھ ان کا خاندان محسوس کررہا ہے وہ در پیپلز پارٹی اور سارے سندھ کو دکھ ہے۔جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ جام مدد علی کے ساتھ بہت لمبا عرصہ گزرا۔یہ حقیقت ہے کہ وہ منفرد شخصیت کے مالک تھے ۔انہوں نے کہا کہ وہ درویش صفت انسان تھے ۔ہر وقت ان کے ہاتھ تسبیح ہوتی تھی۔وہ نفیس انسان تھے ۔وہ پیپلز پارٹی میں ہوتے ہوئے بھی خیریت پوچھتے تھے ، مرحوم مہمان نواز تھے ۔وہ اپنے گھر کے نوکر کو بھی گھر کا فرد سمجھتے تھے۔ جام مدد علی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی گئی جس کے بعدسندھ اسمبلی کا اجلاس برخاست کردیا گیا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments