وزیربلدیات سندھ محکمے میں توجہ کے بجائے پی ڈی ایم کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں، ریاض حیدر

بدھ جنوری 17:31

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2021ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء و رکن صوبائی اسمبلی ریاض حیدر نیوزیراعلیٰ سندھ کو حلقہ پی ایس 130 کے بلدیاتی اور ترقیاتی کاموں سے متعلق سالانہ تجاویز پیش کیں اس موقع پر پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ سال بدل گیا مگر حلقہ پی ایس 130 کے حالات تاحال نہیں بدلے پی ایس 130 کے علاقوں میں بلدیاتی مسائل اورترقیاتی کام التواء کا شکار ہیں وزیر بلدیات اپنے محکمے میں توجہ مرکوز کرنے کے بجائیپی ڈی ایم کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں حلقے کے مسائل سے متعلق وزیر بلدیات کو متعدد بار سندھ اسمبلی کے فلور پرآگاہ کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سالوں سے حکومتی نااہلی،عدم توجہی سے حلقے میں 15 پارکس تباہ حالی کا شکار ہیں سخی حسن قبرستان میں عوام کی سہولیات کے لییاسٹریٹ لائٹس تک موجود نہیں قبرستان میں گندگی کے ڈھیر اور منشیات فروشوں کے ڈیرے ہیں ریاض حیدر نے مزید کہا کہ حلقہ میں عوام کی سہولت اور طبی بنیادوں پر ہر یو سی میں ہیلتھ یونٹس کا قیام کیا جائیمحکمہ بلدیات کی نااہلی کے باعث حلقے کے عوام کے لئے مقامی ڈمپنگ اسٹیشن موجود نہیں ہے محکمے بلدیات کی غفلت سے حلقے میں جگہ جگہ کچرے کے انبار لگے ہیں کچرے کے تعفن سے حلقے کے عوام کی زندگیاں اجیرن ہوگئی ہیں پی ایس 130 کے کئی علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس کی عدم فراہمی سے جرائم کی ورداتوں میں اضافہ ہورہا ہے حلقہ پی ایس 130 مسائل کا گڑھ بن گیا ہے وزیر بلدیات کے پاس مسائل حل کرنے کا وقت نہیں وزیربلدیات ناصر شاہ نے ہمیشہ عادتاً حلقے کے عوامی مسائل کو نظرانداز کیاوزیربلدیات دن رات محکمے میں اصلاحات لانے کے بجائے اپنی سیاست کو چمکانے میں مصروف ہیں پی ایس 130 کے عوامی نمائندے کی حیثیت سے حلقے کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر آواز بلند کرتے رہیں گے عوام کی نظر منتخب نمائندوں کی جانب ہوتی ہے کراچی کے عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈٹ دیا ہے وزیراعلیٰ سندھ پی ایس 130 کے عوام کے جوابدہ ہیں، مسائل حل کیے جائیں گزشتہ دو سالوں سے حلقے کے عوامی مسائل پر تجاویز پیش کررہے ہیں وزیراعلیٰ سے درخواست ہے کہ اس سال عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں پاکستان تحریک انصاف کے نمائندے عوامی مفاد کے خاطر عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments