u2017ء کی مردم شماری کے نتائج پر ہم بھی مطمئن نہیں ،امین الحق

کراچی کے پیسوں پر عیاشیاں کرنے والی پیپلز پارٹی شہر کی دشمن نمبر ایک ہے،وفاقی وزیر

منگل 22 جون 2021 00:13

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 جون2021ء) وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکشن اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما سید امین الحق نے کہا ہے کہ 2017 کی مردم شماری کے نتائج سے جس طرح کراچی کا ہر شہری مطمئن نہیں ہے اسی طرح ہم بھی اطمینان سے نہیں بیٹھے بلکہ شہر کو اس کا حق دلانے کیلئے ہر رستہ اختیار کیا گیا اور یہ ہماری خلوص نیت ہی تھی جس کے تحت وفاق نے نئی مردم شماری کرانے پر اتفاق کیا ہے۔

کراچی کے پیسوں پر عیاشیاں کرنے والی پیپلز پارٹی کراچی کی دشمن نمبر ایک ہے۔اپنے ایک بیان میں سید امین الحق کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا مردم شماری کے نتائج پر اعتراض زبانی جمع خرچ سے زیادہ نہیں تھا جبکہ عملی جدوجہد ایم کیو ایم نے کی جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم وفاق کا اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہوئے کہ مردم شماری 5 سال میں کرائی جائے اس طرح 2017 کی مردم شماری کے بعد آئندہ مردم شماری 2022 میں ہوگی اس مقصد کیلئے بجٹ میں 5 ارب روپے کی رقم بھی مختص کرائی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اور اسی مردم شماری کے نتائج کلے تحت 2023 کے عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ یہ وہ کامیابی ہے جسے پیپلز پارٹی ہضم نہیں کرپارہی اسی لیئے حیلے بہانوں سے کراچی کی عوام کو ہدف بنا کر ان سے بنیادی حقوق چھیننے میں مزید تیزی کردی گئی ہے۔سید امین الحق کا کہنا تھا کہ اب یہ حقیقت سب پر آشکار ہوچکی ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی کی حکومت ہے سندھ میں ترقی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ لوگ نہ خود کام کرتے ہیں نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔

امین الحق کے مطابق اگر وفاق نے سندھ کے حصے کی پوری رقم نہیں دی تو یہ بتایا جائے کہ جتنی بھی رقم ملی اس سے کراچی حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں کون سے ترقیاتی کام کروائے گئے۔ کیا سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی کی سڑکیں بن گئیں، سیوریج کا نظام درست ہوگیا، صفائی ستھرائی کا مسئلہ حل ہوگیا، اسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ ہوگیا، پینے کا پانی سب کو ملنے لگا، صحت و تعلیم کا نظام معیاری ہوگیا۔

۔!!ً اگر یہ سب نہیں ہوا تو رقم کہاں خرچ ہوئی۔انھوں نے کہا کہ بنیادی بات یہی ہے کہ سندھ حکومت اور اس کے وزرائ کا صرف تنقید کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں رہ گیا ہے یہ لوگ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پر گندگی اچھالتے رہیں کبھی موقع ملے تو خود اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں کہ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے عوام پیپلز پارٹی کی کارکردگی سے کتنا مطمئن ہیں۔

امین الحق نے واضح کیا کہ بحیثیت وفاقی وزیر آئی ٹی انھوں نے سندھ میں آٹھ ارب روپے کی لاگت سے ٹیلی کموینیکشن، براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی اور فائبر آپٹیکل بچھانے کے 9 منصوبوں کا آغاز کروایا ہے ہمارے پاس اعدادووشمار بھی موجود ہیں اور ان منصوبوں کی سچائی سندھ کی زمینوں پر بھی ہے۔ زبانی جمع خرچ سے مسائل حل نہیں ہوتی

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments