پی ایم ڈی اے کا قانون حکومت کی آمرانہ سوچ کا عکاس ہے،پی ایف یو جے دستور

جمعہ 17 ستمبر 2021 00:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 ستمبر2021ء) پی ایم ڈی اے کا قانون حکومت کی آمرانہ سوچ کا عکاس ہے،اس مجوزہ قانون کے نفاذ کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی ،پی ایم ڈی اے قانون پہلے اسے صدارتی آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ، پھر پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن میں جلدی سے منظور کرانے کی سازش کی گئی ،تاہم میڈیا تنظیموں کی پھر پور مزاحمت کے بعد اب کوئی اور طریقہ تلاش کیا جا رہا ہے لیکن حکومت تاحال اس سے دستبردار نہیں ہو ئی ،حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے کی جس پالیسی پر پہلے دن سے گامزن ہے، یہ پی ڈی ایم اے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، یہ کالا قانون صحافیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجائے گا۔

ان خیالات کا اظہارفیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے دستور)کے سیکرٹری جنرل سہیل افضل ،سیکرٹری سوشل میڈیا کمیٹی پی ایف یو جی(دستور)ارمان صابر،کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور)کے صدر راشد عزیز ،کے یو جے کے رہنما حسن عباس ،کراچی پریس کلب کے سابق سیکرٹری عامر لطیف ،کے یوجے کے سینئرنائب صدراسلم خان اور سوشل میڈیا کمیٹی پی ایف یو جے (دستور)کی ممبرگورننگ باڈی فہمیدہ یوسفی نے جمعرات کو سوشل میڈیا کمیٹی پی ایف یو جے (دستور)کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے تعاون سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکرٹری محمدرضوان بھٹی بھی موجود تھے۔مقررین نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور نے پی ایم ڈی اے کا جائزہ لینے اور اس پر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے کراچی پریس کلب میں رواں برس جون کے اوائل میں پی ایف یو جے ،کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور اور کراچی پریس کلب کا مشترکہ اجلاس منعقد کیاتھا۔

اجلاس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاگیاتھا کہ اس مجوزہ قانون کو جوآزاد صحافت ،بنیادی انسانی حقو ق اور آئین پاکستان سے بھی متصادم ہے۔اس لیے اسے نافذ کرنے سے باز رہے ، اگر اس فسطائی قانون کو بزور قوت نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم ہر سطح پر قانونی اورسیاسی جنگ لڑیں گے اور اس قانون کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔انہوںنے کہا کہ اگرمجوزہ پی ایم ڈی اے کو آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کیاجاتاہے تواس کے نفاذ کے بعد پیمرا،پریس کونسل آرڈیننس اور موشن پکچرز آرڈیننس منسوخ ہوجائیں گے اور ملک بھر میں کام کرنے والے پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پی ایم ڈی اے کے تحت کام کریں گے،مسودے کے مطابق تمام میڈیا اداروں کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا کے لئے بھی لائسنس اور این او سی حاصل کرنا اور تجدید لازمی قرار دیا گیا ہے،ملک میں صرف وہ میڈیا ادارے بشول ڈیجیٹل میڈیا کام کر سکیں گے جنہیں پی ایم ڈی اے کی جانب سے لائسنس یا این او سی جاری کیا جائے گا۔

انہوںنے کہا کہ مسودے کے مطابق کوئی بھی ایسا مواد نشر کرنے یا آن لائن پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جسے حکومت، ریاست کے سربراہ،مسلح افواج یا عدلیہ کی بدنامی کا باعث بننے کا سبب سمجھے گی ، اس مجوزہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں تین سال تک قید اور بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے اور دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں یہ سزاپانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے اور جرمانہ اس کے ساتھ ہی عائد کیا جاسکے گا۔

صحافی رہنمائوںنے کہا کہ اس مجوزہ قانون کی اہم اور خطر ناک بات یہ ہے کہ وفاقی ، صوبائی حکومت اور مقامی انتطامیہ کی جانب سے میڈیا کے خلاف اقدامات کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا ، اس کے تحت میڈیا کمپلینٹ کونسل بھی تشکیل دی جائے گی جو خبروں، پروگراموں اور تجزیوں کے حوالے سے شکایات کا فیصلہ کرے گی،کونسل کو سول کورٹس کے اختیارات حاصل ہوں گے جس کے تحت کونسل کو کسی کو بھی سمن جاری کرنے یا معلومات طلب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور پہلے ہی مجوزہ پی ایم ڈی اے کے مسودے پر شدید تحفظات کا اظہار کرچکی ہے اور اس بات کا خدشہ ظاہرکیا ہے کہ حکومت میڈیا اداروں کے ساتھ ساتھ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنا چاہتی ہے تاکہ حکومت کی ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آوازاور تنقید کو دبایا جاسکے اور ہر میڈیا پر صرف حکومتی موقف کو شائع یا نشر کیا جاسکے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پی ایم ڈی اے کے ڈرافٹ کو اسمبلی میں پذیرائی نہ ملنے کے بعد اسے صدارتی آرڈیننس کی صورت میں نافذ کردیا جائے گا۔حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے کی جس پالیسی پر پہلے دن سے گامزن ہے، یہ صدارتی آرڈیننس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوگا۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوری معاشروںمیں آزادی اظہار رائے لازم و ملزوم ہیں ، آئین پاکستان بھی آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے، جمہوری معاشرے مثبت تنقید سے پروان چڑھتے ہیں ، جبری پابندیوں سے معاشرے میں انتشار اور انارکی پھیلتی ہے۔

اس آرڈیننس سے حکومت ایک جانب تو میڈیا مالکان کوکنٹرول کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب 1973 کا پریس اینڈ پبلیکیشن ایکٹ ختم کرکے ورکنگ جرنلسٹس کو حاصل حقوق کو بھی سلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کالا قانون صحافیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجائے گا تاکہ انہیں کنٹرول کیا جاسکے اور ان سے اپنی مرضی کا موقف چلوایا جاسکے۔ ہم اس کالے قانون کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مجوزہ قانون کو نافذ کرنے کے بجائے صحافیوں کے مالی مسائل حل کرنے اور ان کے حقوق دینے پر توجہ مبذول کی جائے۔انہوںنے کہا کہ تمام صحافتی تنظیموں کی اپنے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہی

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments