سندھ ایکشن کمیٹی کی سندھ کی قدیم گھوٹوں پر ایک دفعہ پھرسپریم کورٹ کے غیر تصدیق شدہ سائن بورڈ لگا کر وہاں کے رواسیوں کو ہراساں کرنے کی مذمت

سندھ حکومت غیر قانونی طور پر نہریں اور کینال نکال کر پانی کی چوری کر کے سندھ کے آباد گاروں اور کسانوں کا معاشی قتل عام کر رہی ہے ، پانی کی چوری میں وفاقی اور سندھ حکومت دونوں برابر کی شریک ہیں، اجلاس سے سید جلال محمود شاہ اور دیگرکا خطاب

منگل 21 ستمبر 2021 00:17

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2021ء) سندھ ایکشن کمیٹی کااجلاس سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینر سید جلال محمود شاہ کی زیرصدارت کراچی میں سید جلال محمود شاہ کی رہاشگاہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عوامی تحریک کے صدر رسول بخش خاصخیلی، جئے سندھ محاز کے چیئرمین ریاض چانڈیو، سندھ ترقی پسند پارٹی کے سیکریڑی جنرل گلزار سومرو،روشن بڑوڑو، اعجاز سامٹیو، خدا ڈنو شاہ و دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں سردار عطاء الله مینگل ، سید امیر حیدر شاہ اور سندھی ادبی سنگت کے بانی غلام حسین رنگریز کے لئے دعائے مغفرت کی گئی اور 5 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اجلاس میں میگا پروجیکٹس کے ذریعے سندھ کی قدیم گھوٹوں پر ایک دفعہ پھرسپریم کورٹ کے غیر تصدیق شدہ سائن بورڈ لگا کر وہاں کے رواسیوں کو ہراساں کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ حکومت لینڈ مافیا کے ساتھ سندھ کی زمینوں کی لوٹ مار کرنے میں برابر کی حصہ دار ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما سید زین شاہ کو جھوٹے مقدمے میں 3 ماہ سے زیادہ اسیری اور دیگر رہنماوں کے خلاف جھوٹے مقدمات داخل کرکے کرپٹ پیپلز پارٹی کی حکومت کی بدترین انتقامی کاروائی کی واضح مثال قائم کی ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

اجلاس میں سندھ میں پانی کی شدید قلت کا ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومت کو قرار دیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ وفاق حکومت نے دریاء سندھ پر غیر قانونی طور پر پانی کو روک رکھا ہے اور دوسری طرف سندھ حکومت غیر قانونی طور پر نہریں اور کینال نکال کر پانی کی چوری کر کے سندھ کے آباد گاروں اور کسانوں کا معاشی قتل عام کر رہی ہے ، پانی کی چوری میں وفاقی اور سندھ حکومت دونوں برابر کی شریک ہیں۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی اداروں میں ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی سخت لفظوں میں مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ عدالتی فیصلہ متعصب رویہ پر مبنی ہے جس سے سندھ کے ہزاروں افراد کو بے روزگار کیا گیا ہے اور وفاقی حکومت فوری طور پر ان ملازمین کی بحالی کے لئیے کردار ادا کرے۔اجلا س میں کہا گیا کہ نیب و دیگر وفاقی اداروں کی مجرمانہ خاموشی سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کا پس پردہ سمجھوتہ ہوا ہے اور سندھ کی عوام کو لینڈ میافا اور کرپٹ پیپلز پارٹی کے حوالے کر کے ایک سازش کے تحت ان کو سزا دی جارہی ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی اپنے سیاسی مخالفین کی رستا روک کر کے اور خود سرکاری پروٹوکول میں جلسے کر رہی ہے جو کہ غیر جمہوری عمل ہے۔افغانستان سے سیکڑوں پناہ گیروں کی کراچی آمد سے سندھ کا امن اور معاشی وجود خطرے میں پڑھ گیا ہے اور لاکھوں کی تعدار میں سندھ میں غیر ملکیوں کی آبادی سے سندھ میں رہنے والے اقلیت میں تبدیل ہو رہے ہیںاور سندھ کی ڈیموگرافی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں ۔

اجلاس میں عوامی رابطہ مہم کا چھوتا شیڈیول جاری کیا جس میں 10 اکتوبر کو نوشہروفروش، بریا ، کنڈیارو، 11 ستمبر کو ہالانی ، ہنگورجا، رانی پور ، گمبٹ،12 اکتوبر کو کمب ، خیرپور، 17 اکتوبر روہڑی، پنو عاقل ، گھوٹکی، 18 اکتوبر کو ڈہرکی ، میر پور ماتھیلو میں جلسے منعقد کئیے جائیں گے اور 31 اکتوبر کو سکھر میں جلسہ عام کیا جائے گا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments