سپریم کورٹ میں دوران سماعت شراب کی بوتلوں کا تذکرہ ْ

رفاعی پلاٹس پر قائم ضیا الدین اور ساتھ سٹی اسپتال اسپتالوں کی انتظامیہ سے جامع جواب طلب

بدھ 22 ستمبر 2021 22:31

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2021ء) سپریم کورٹ نے رفاعی پلاٹس پر قائم ضیاء الدین اور ساتھ سٹی اسپتال سے متعلق کیس میں رفاعی پلاٹس کا کمرشل استعمال کرنے پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ، اسپتالوں کی انتظامیہ، ڈی جی کے ڈی اے، کمشنر کراچی و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے جامع جواب طلب کرلیا۔بدھ کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو رفاعی پلاٹس پر قائم اسپتالوں کو کمرشل بنیادوں پر چلانے سے متعلق سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ساتھ سٹی میں تو بڑے بڑے لوگ داخل ہوتے ہیں۔ وزراء اور بااثر شخصیات سبھی وہیں جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

بعد میں شراب کی بوتلیں بھی وہیں سے ملتی ہیں۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہ لگا۔ عدالت نے رفاعی پلاٹس کا کمرشل استعمال کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ضیا الدین اور ساتھ سٹی اسپتال، ڈی جی کے ڈی اے، کمشنر کراچی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام فریقین سے جامع رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے بتایا جائے، جس مقصد کے لیے زمین دی، کیا وہ مقصد پورا ہو رہا ہے۔ دوران سماعت ساتھ سٹی کی مالک ڈاکٹر سعدیہ اسحاق عدالت میں پیش ہوگئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ بہت مہنگے ترین اسپتال کی مالک ہیں۔ مالک خاتون نے کہا کہ کوالٹی بھی تو دیکھیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے آپ ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرائیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments