ایف بی آر کی پالیسی نہیں کہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جائے، طارق مصطفی

جلد آئریس سافٹ ویئر کو تبدیل کرکے نیا لائق سسٹم متعارف کیاجائیگا، چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو نادہندگان کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کی اطلاعات پر صنعتکار تشویش کا شکار ہیں، صدر کاٹی سلمان اسلم

بدھ 20 اکتوبر 2021 23:38

ایف بی آر کی پالیسی نہیں کہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جائے، طارق مصطفی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اکتوبر2021ء) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو طارق مصطفیٰ نے کہا کہ ایف بی آر کی پالیسی نہیں کہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جائے، ٹیکس کی ادائیگی کیلئے ایف بی آر کے آن لائن سسٹم آئریس(IRIS) کو تبدیل کرکے نیا جدید اور لائق سسٹم متعارف کرائیں گے جس میں ہر طرح کے ٹیکس کی ادائیگی ایک ہی جگہ پر با آسانی کی جاسکے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے عہدیداران اور ممبران سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر سلمان اسلم، کائیٹ کے سی ای او زبیر چھایا، ٹیکس لائیژن کمیٹی کے چیئرمین مسعود نقی، سینئر نائب صدر ماہین سلمان، سابق صدور سلیم الزماں، طارق ملک، فرحان الرحمن، راشد صدیقی، جوہر قندھاری، احتشام الدین، سید فرخ مظہر سمیت دیگر اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

(جاری ہے)

چیف کمشنر آر ٹی او طارق مصطفیٰ کا کہناتھا کہ کاٹی نیجن مسائل پر توجہ دلائی وہ نہ صرف ریجنل ٹیکس آفس کی بہتری بلکہ اس سے ایف بی آر کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 کے بعد ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگیاں تعطل کا شکار تھیں۔ موجودہ سسٹم کے تحت اب ریفنڈ کا کوئی مسئلہ نہیں جدید خود کار نظام کے ذریعہ اب ریفنڈ فوری طور پر ادا ہوجاتے ہیں، بلکہ ریفنڈز کی ادائیگی نہ ہونے پر ہم جواب دہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاٹی کے ممبران ایف بی آر سے متعلق اپنی کسی بھی شکایت کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں، میرے دروازے تمام ممبران کیلئے کھلے ہیں۔ اس سے قبل کاٹی کے صدر سلمان اسلم نے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو طارق مصطفیٰ کی کاٹی آمد پر خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ نادہندگان کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کی اطلاعات پر صنعتکار تشویش کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں اضافہ کیلئے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے، ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے سے محصولات میں اضافہ ممکن نہیں۔

صدر کاٹی کے کہا کہ ٹیکس نظام کو سہل بنانے کیلئے نئی پالیسیاں مرتب کی جائیں تاکہ صنعتکار بغیر کسی خوف کے ٹیکس کی ادائیگی کو قومی فریضہ سمجھیں۔ کائیٹ کے سی ای او زبیر چھایا کا کہنا تھا کہ ہمیں بغیر کسی معاوضہ کے ودہولڈنگ ایجنٹ بنادیا گیا اور بجائے حوصلہ افزائی کے ہمیں 2014 سے اب تک کی مانیٹرنگ کے نوٹس جاری کر دئیے جاتے ہیں۔ حکومت کو ود ہولڈنگ ایجنٹس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ فائلر اور نان فائلر کی اصطلاح میں نان فائلر ایک مرتبہ اضافی ٹیکس دیکر جان چھڑا لیتے ہیں جبکہ فائلرز ٹیکس ادا کرنے کے باوجود مختلف نوٹسز اور آڈٹ کو بھگتے ہیں۔اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے ایسی پالیسی مرتب کی جائے جس سے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کیا جا سکے۔کراچی کے صنعتکاروں کے کو سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ صنعتوں کو فروغ اورملکی ریونیو میں مزید اضافہ کیا جاسکے۔

اس موقع پر ٹیکس لائژن کمیٹی کے چیئرمین مسعود نقی نے کہا کہ ایف بی آر کورنگی کے صنعتکاروں کی سہولت کیلئے ایک فوکل پرسن مقرر کیا جائے جو کاٹی کے ممبران کو فوری مدد فراہم کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹ منجمد کرنے اور بھاری جرمانے عائد کرنے سے ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی ہوگی کیونکہ وہ کورونا کے بعد پیدا ہونے والی معاشی بحران کے باعث بھاری جرمانے ادا کرنے کے قابل نہیں۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments