آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پاکستان میں ادب کا پس ِ منظر : ماضی ،حال اور مستقبل کے آئینے میں کے عنوان پر مبنی مباحثے کا انعقاد

ہفتہ 23 اکتوبر 2021 17:42

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اکتوبر2021ء) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی جوش ملیح آبادی لائبریری میں پاکستان لائبریری کلب، گوئٹے انسٹیٹیوٹ پاکستان اور آرٹس کونسل کراچی کے اشتراک سے پاکستان میں ادب کا پس منظر: ماضی، حال اور مستقبل کے آئینے میں کے عنوان سے مباحثے کا انعقاد کیاگیا جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، حمرہ خلیق، ڈاکٹر فاطمہ حسن، محمد عمر افتخار، انیلا نے گفتگو کی جبکہ نظامت کے فرائض ربیعہ آفریدی نے انجام دیے۔

(جاری ہے)

صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ ا ردو سے زیادہ قدیم زبانیں اس خطہ میں پہلے سے موجود تھیں، سندھی اس خطہ کی سب سے قدیم زبان ہے، انہوں نے کہاکہ ادب میں ہمیں پاکستانی خطے میں رہنے والوں کی مادری زبانوں کو بھی شامل کرنا ہوگا، آج بھی دنیا میں ناصرف ا ردو بلکہ دوسری زبانوں کی معیاری کتابیں نہیں ملتیں، ہمیں انگریزی کا احسان مند ہونا چاہیے جس کی وجہ سے ، ہمیں دوسری زبان کا ادب پڑھنے کو ملا، تو ہمیں وقت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا دنیا کا شکل بدل رہی ہے، کاملہ شمسی، محمد حنیف، ایچ ایم نقوی، حارث خلیق انگریزی میں نظمیں لکھ رہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ زبان معاشرے میں میڈیم کی حیثیت رکھتی ہے، زبانوں کا ادب علوم جو آپ کے علم میں اضافہ کرتا ہے، کتاب پڑھنے سے سوچنے، سمجھنے اور لکھنے کی صلاحیت کو جلا ملتی ہے، حمرہ خلیق نے کہاکہ کتاب اور لائبریری سے تعلق ہماری زندگی کا حصہ ہے، موجودہ دور کا المیہ ہے کہ والدین خود پڑھنا نہیں چاہتے جس کا بچوں کی زندگی پر بہت ب را اثر پڑرہا ہے، پہلے کے لوگ درختوں کی چھال پر لکھی ہوئی تحریروں کو پڑھتے تھے پھر وقت کے ساتھ ساتھ ترقی ہوئی تو کاغذ اور پھر کتابیں کا تصور آیا اور کتابیں چھپنا شروع ہوگئیں، کئی موضوعات پر کتابیں آنے لگیں، ابتدائی زمانے میں بہت سے ممالک میں لائبریریوں کا قیام کے بعد بندوق اور تلوار کے بجائے کتابوں کو اپنے لیے خطرناک ہتھیار سمجھتے تھے تو تمام لائبریوں کو جلا کر راکھ کردیاگیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ ہم جن پر حکومت کرنے آئے ہیں وہ پڑھے لکھے ہوں گے تو ہمارے قبضہ میں نہیں آئیں گے،معروف شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہاکہ ہمیں ادب پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر کسی معاشرے سے ادب اور آرٹ کو ختم کردیا جائے تو وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہمیں ادب کے مطالعہ کے لیے خود کو اس جانب راغب کرنا پڑے گا،انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں ایک لائبریری کا قیام عمل میں لانا چاہیے جس سے کتابیں پڑھنے کے بعد بچوں میں شعور پیدا ہوگا،عمر افتخار نے کہاکہ ادب اور ثقافت کا ایک گہرا رشتہ ہے، داستان گوئی بھی نہ ہونے کے برابر ہے پہلے ہر گھر کے بزرگ کہانیاں اور داستانیں سنایا کرتے تھے مگر اب ایسا بالکل نہیں ہے ماڈرن ازم کے نام پر اب بچے موبائل فون زیادہ استعمال کرتے ہیں مگر جو مزہ کتابوں کو پڑھ اور ان پر گفتگو کرکے مختلف ادیبوں اور شعراو ں کے کلام پڑھ کر آتا ہے وہ شاید آج کے بچوں کو سمجھ نہ آئے، اس موقع پر گوئٹے انسٹیٹیوٹ کی لائبریرین انیلا نے بھی اظہارِ خیال کیا اور ارشد محمود اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا اتنا شاندار سیشن منعقد پر شکریہ ادا کیا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments