سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس

سندھ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں جرائم کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے،ڈی آئی جی شرقی ثاقب اسماعیل ڈرگز اور گٹکا، ماوا میں جو بھی اہلکار، افراد ملوث ہو ں ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،چیئرپرسن قائمہ کمیٹی فریال تالپور

جمعرات 28 اکتوبر 2021 00:25

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 اکتوبر2021ء) سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس کمیٹی کی چیئرپرسن رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں بدھ کے روز منعقد ہوا،اجلاس میں مشیر قانون و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب،صوبائی وزیر مکیش چاولہ، قاسم سراج سومرو، ایڈوکیٹ ضیاء لنجار، ایم پی ایز، منور وسان، شمیم ممتاز، سہراب سرکی، راجہ رزاق، امداد پتافی ،سیکرٹری محکمہ ایکسائز ، آئی جی سندھ پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ، ایڈیشنل آئی جیز پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

سندھ میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ پولیس کی کارکردگی ، صوبے میں جرائم، اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں،بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان کی وارداتوں، ہراسگی کے واقعات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں کے واقعات اور انکے سدباب کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

ڈی آئی جی شرقی ثاقب اسماعیل کی جانب سے جرائم کے واقعات اور پولیس کارکردگی ،منشیات کے خلاف پولیس کی مہم پر بریفنگ دی اوربتایا کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں جرائم کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ فریال تالپورنے کہاکہ ڈرگز اور گٹکا، ماوا میں جو بھی اہلکار، افراد ملوث ہو ں ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جرائم کی وارداتوں میں ملوث ملزمان باآسانی رہا ہوجاتے ہیں،پولیس، عدلیہ، سوسائٹی کا آپس میں بہتر لائڑن ہو تاکہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان آسانی سے رہا نہ ہوں اور انہیں قرار واقعی سزا دی جاسکے اسٹریٹ کرائم کو روکنے ضرورت ہے،خاص طور پر کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ میرٹ پر خواتین پولیس اہلکاروں کی تقرریاں کی جائیں،شہری اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں خواتین کی پولیس میں بھرتی کے حوصلہ افزائی کے لیے سیمنارز کرائے جائیں۔خواتین پولیس اہلکار ریپ کیسز کی انویسٹی گیشن میں زیادہ معاون ثابت ہوسکتی ہیں چیئرپرسن قائمہ کمیٹی کی تجویز پر چائلڈ پروٹیکشن پورٹل کے لئے ڈی آئی جی آپریشن کو فوکل پرسن مقرر کردیا گیا۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہاکہ چائلڈ پروٹیکشن، چائلڈ ابیوز اور پیشہ ور بھکاریوں کے حوالے سے قانون سازی کی گئی ہے۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین نے اپنے علاقوں کے امن وامان سے متعلق مسائل بتائے۔آئی جی سندھ پولیس نے تجویز دی کہ موٹر سائیکل کی انشورنس کو لازمی اور نمبر پلیٹ کو مشین ریڈ ایبل ہونا چاہئییاورکمیٹی کوبتایا کہ گٹکا اور ماوا کی فروخت اور اسکی تیاری روکنے کے لئے اہم اقدامات ا ٴْٹھائے گئے ہیں۔وزیرایکسائیز مکیش چاولہ نے بتایا کہ سندھ کابینہ موٹرسائیکل کی انشورنس اور مشین ریڈ ایبل نمبر پلیٹ کی منظوری دے چکی ہی

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments