کراچی ،درخشاں کی پولیس کا ناروا سلوک، طالب علم فائق علی سراپا احتجاج

چھ ماہ قبل ڈیفنس میں ہونے والی ڈکیتی کا اعترا ف کرانے کے لیئے دبائو وتشدد میرے ہی گھر میں چوری ہوئی اور پولیس مجھے ہی ایک ماہ بعد اغواکر کے لے گئی

اتوار 28 نومبر 2021 20:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 نومبر2021ء) کچھ ماہ پہلے ڈیفیس فیز 6میں ایک ڈکیتی کی واردات ہوئی اور ڈکیتی میں تیس تولہ سونا کی چوری کا مقدمہ تھانہ درخشاں میں فائق علی نامی طالب علم کی مدعیت میں درج ہوا تھا، مقدمہ درج ہونے کے ایک ماہ بعد درخشاں تھانے کے تفتیشی انچارج نے مقدمہ درج کروانے والے فائق علی کے گھر میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے رات گئے داخل ہوئے اور مجھے حراست میں لیکر ایس ایس پی سائوتھ کے دفتر میں موجود ڈی ایس پی زاہد حسین کے کمرے میں لے گئے، جہاں پر مجھ سے پوچھ گچھ کی گئی میں لفظ بہ لفظ حقیقت بتائی اور حلفی بیان دیا، میرے بیان کے بعد پولیس والے میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے نامعلو م مقام کر لے گئے اور چار دن تک میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر بھوکا پیاسارکھا گیا اور مسلسل تشدد کرتے ہوئے مجھے اس واردار ت کے حوالے سے اعتراف جرم کرنے کے لیئے دبائو ڈالا گیا، چار روز گزرنے کے بعد جب میڈیا پر یہ خبر چلی کہ جن کے گھر میں واردات ہوئی ہے وہی لوگ منصوبے کے تحت اس واردات میںملوث لائے گئے ہیں تو پولیس کے تفتیشی افسر رائو رفیق نے مجھے رہا کرنے کے عوض تاوان مانگا، اور میر ی مہنگا ترین ایپل آئی فون پرومیکس موبائل فون جبری طور پر لے لیا جس میں میرے واردات میں ملوث نہ ہونے کے اہم ترین شواہد و ریکارڈنگ تک موجود تھی جو کہ اب بھی میرے پاس موجود ہے، اپنے موبائل فون کو حاصل کرنے کے لیئے درخشان تھانے سمیت ساوتھ زون کے اعلیٰ افسران کے پاس چکر لگاتا رہا متعد د چکر لگانے کے باوجود میرا موبائل مجھے نہیں دیا گیا، میں نے وزیراعظم عمران خان کے آ ن لائن پورٹل پر بھی شکایت درج کروائی ہے مگر رائو رفیق مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتے رہے، عدالتی کاروائی میں اس چوری کو سی کلاس قرار دیاگیا، مگر جس کیس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں اس میں مجھے پھنسانے کی کوشش کی گئی اور میرا موبائل فون بھی ابھی تک واپس نہیں کیا گیا، درخواستیں جمع کروانے کے بعد ڈی آئی جی آفس، ایس ایس پی آفس اور تھانے کے چکر لگا لگا کر تھک گیا ہوں، میں ایک طالب علم ہوں اور ساوتھ زون کے مخصوص پولیس افسرو اہلکاروں کے ناروا سلوک کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں ، میری درخواست ہے کہ مجھے رہا کرنے کے عوض وصول کی گئی تین لاکھ روپے کی رقم اور میرا موبائل فون فوری طور پر واپس لوٹایا جائے، میرے پاس کیس میں ملوث نہ ہونے اور رائو رفیق کے ناروا سلوک کے تمام شواہد موجود ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments