تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا ہے،محسن شیخانی

ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں قانون کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جائے،چیئرمین آباد کا پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ 1 دسمبر 2021 23:55

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2021ء) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد)کے چیئرمین محسن شیخانی نے بتایا کہ سندھ میں تعمیراتی شعبے کی ترقی اور تحفظ کے لیے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو 5 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا ہے۔یہ بات انھوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔آباد کے سینئروائس چیئرمین محمد حنیف میمن،وائس چیئرمین الطاف کانٹا والا،آباد سدرن ریجن کے چیئرمین سفیان آڈھیا بھی ان کے ہمراہ تھے۔

محسن شیخانی نے کہا کہ ہم سندھ حکومت سے کوئی مراعات یا زمین نہیں مانگتے بلکہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں قانون کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جائے،آباد غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ہے اور ہمیشہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آباد نے آواز اٹھائی ہے۔

(جاری ہے)

محسن شیخانی نے کہا کہ کراچی میں تعمیراتی شعبہ کو نقصان ہوگا تو سیکڑوں ذیلی صنعتوں کو بھی نقصان ہوگا،ہمارے شہر کے انجینئرنگ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل انجینئرز کو روزگار ملنا مشکل ہوگا،تعمیراتی شعبے سے اسکلڈ اور غیر اسکلڈ لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔

ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ میں تعمیراتی پروجیکٹس کی این او سیز کی اپروول کے لیے سنگل اتھارٹی قائم کی جائے اور اس اتھارٹی کو کوئی بھی چیلنج نہ کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تمام قوانین پر عمل کرنے اور اربوں روپے کی ٹیکس ادا کرنے کے عمارتیں تعمیر کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور عمارتوں کی مسماری کے احکام جاری کیے جاتے ہیں،محسن شیخانی نے کہا کہ سنگل اتھارٹی رجسٹریشن سے سندھ میں تعمیراتی شعبہ ترقی کرے گا جس سے سندھ کے عوام کو روزگار ملے گا اور سندھ کی معیشت کو بھی ترقی ملے گی۔

ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ 12 ماہ کے اندر کراچی کے لیے ماسٹر پلان بنایا جائے اورماسٹرپلان کی تیاری میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ ماسٹر پلان سے کراچی کے انفرا اسٹراکچر کو فائدہ ملے گا اور ماسٹر پلان ڈاکیومنٹیشن اور دیگر معاملات پر بھی غور ہوگا۔ ہم نے وزیر اعلی سندھ سے کہا ہ کہ پنجاب طرز کا سندھ میں بھی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ ہر کیس کو قانونی کے مطابق سنا جائے اور مسئلے کو ختم کیا جاسکے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعلی سندھ سے جن مسائل اور قوانین پر بات کی ہے اگر قانون بن جائیں اور لیگل کام کرنے والوں کو تحفظ ملے تو یہا ں کے بلڈرز اور ڈیولپرز میں اتنا پوٹینشل ہے کہ کراچی جو اس وقت پاکستان کے ریونیو میں 62 فیصد حصہ ہے وہ 120 فیصد ہوسکتا ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>