امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے ارسلان محسود کے والد سے تعزیت

پولیس محافظ کے بجائے قاتل بن گئی ہے، اب مزید کسی رائو انوار کو برداشت نہیں کیا جائے گا،حافظ نعیم الرحمان امیر جماعت اسلامی کراچی کا ارسلان محسود کے قتل کی اعلیٰ سطحی انکوائری اور شہید کے لئے انصاف کا مطالبہ

جمعرات 9 دسمبر 2021 00:13

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 دسمبر2021ء) پولیس کی ذمہ داری عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے لیکن سندھ پولیس عوام کی قاتل بن گئی ہے۔سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکارعوام کے لئے خوف کا باعث بن گئے ہیں۔ارسلان محسود کا قتل کراچی میں ماورائے عدالت ہونے والے قتل عام کا تسلسل ہے۔سندھ پولیس جرائم کو کنٹرول کرنے اور منشیات کی روک تھام کے بجائے ڈاکوں کی سرپرست بن گئی ہے۔

کراچی مزید نوجوانوں کی لاشیں اٹھانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔جماعت اسلامی لیاقت محسود کے غم میں برابر شریک ہے اور سندھ پولیس کے اس ظالمانہ اقدام کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔اب شہر کراچی میں مزید کسی رائو انوار کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے نوجوان طالب علم ارسلان محسود کے گھراتحاد ٹائون آمدکے موقع پر انکے والد لیاقت محسود اور اہل خانے سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ اعلیٰ سطح پر انکوائری کے بعد ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دیں۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع کیماڑی فضل احد ،سابق ایم پی اے حمید اللہ خان،ڈاکٹر نور حق و دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی جواب دیں کہ سندھ پولیس کو قتل عام کا لائسنس کس نے دیا ہے ۔صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر میں امن و مان قائم رکھے۔

دیگر ذمہ داریوں کی طرح پیپلزپارٹی کی حکومت قیام امن میں بھی ناکام ہو گئی ہے۔قانون کسی مجرم کو بھی سرے عام گولی مارنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہاںسرے عام نوجوان طالب علموں پر گولیاں برسائی گئیں۔پولیس منشیات کو پھیلانے،جرائم کی سرپرستی اور مجرموں کی پشتی بانی کررہی ہے۔محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>