iجنوبی پنجاب سے پہلے ہزارہ صوبہ بنے گا،سردار محمدیوسف

اپوزیشن لیڈر فلور آف دی ہاوس پر حکومت کو نئے صوبوں کی حمایت کا یقین دلا چکے ہیں،سابق وفاقی وزیر

اتوار 23 جنوری 2022 22:05

-(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 جنوری2022ء) چئیرمین صوبہ ہزارہ تحریک ،سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے پہلے ہزارہ صوبہ بنے گا۔صوبوں کی بات ہزارہ کے عوام نے خون دے کر شروع کی ہے۔سات جانیں قربان کی ہیں۔اپوزیشن لیڈر فلور آف دی ہاوس پر حکومت کو نئے صوبوں کی حمایت کا یقین دلا چکے۔اگر ہزارہ کیعوام کا حق دبایا گیا تو ہم پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے مسقل دھرنا دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے داود چورنگی لانڈھی میں ایک بہٹ بڑے صوبہ ہزارہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سینئر رہنمائ صوبہ ہزارہ تحریک سینیٹر طلحہ محمود،سینیٹر پیر صابر شاہ، پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے فہیم خان، ایم پی اے راجہ اظہر، مرکزی کو آرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر، جماعت اسلامی کے رہنمائ عبدالرزاق عباسی، سابق وفاقی وزیر سید قاسم شاہ،سابق صوبائی وزیر زر گل خان،کوہستان کے سید گل بادشاہ، سابق ایم پی اے سید مظہر علی قاسم، میاں ضیائ الرحمن، سردار ظہور احمد، سید رفیع اللہ شیرازی،سابق تحصیل ناظم ابراہیم شاہ،سردار لیاقت کسانہ ،سردار مشتاق،چوہدری نذیر، قاری محبوب الرحمن،اقبال جہانگیری، قاضی محمد صادق ،مفتی جمیل الرحمن فاروقی، سابق ناظمین عمر نواز خان،سردار شاہ خان،حاجی خورشید ہزاروی،سردار محمد نزیر،ماسٹر منیر احمد نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ اسلام آباد کے ایوانوں کو جگانے کے لیے میں نے کے پی کے اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کی قرارداد پیش کی جو کثرت رائے سے منظور ہوئی۔اس سے قبل 2014 ئ میں بھی صوبہ ہزارہ کی قرارداد منظور ہو چکی ہے۔کوئی بڑا انقلاب آنے سے پہلے عوام کی آواز سنی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم 12 سال سے احتجاج پر ہیں۔

ہزارہ کے سات لوگوں نے اپنی جانیں دے کر صوبوں کی تحریک شروع کی ہے۔ہم نے پورے پاکستان میں انتظامی سطح پر نئے انتظامی یونٹ بنانے کی بات کی ہے۔اور آج کوئی کس طرح یہ کہ سکتا ہے کہ پہلے کوئی اور صوبہ بنے گا۔ہزارہ کے شہدا ء سے غداری کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔کسی نے اگر ایسا کیا تو وہ ہماری لاشوں سے گزر کر کرے گا۔ہزارہ واحد ایسا خطہ ہے جس پر اس علاقے کی تمام قیادت متفق ہے۔

پونے تین سال قبل ہمارا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا اور اب تک التوا کا شکار ہے۔ہم نے پارلیمنٹ کے سامنے ایک علامتی احتجاج کیا تھا۔ہمارا بل اسمبلی میں لایا جائے۔فوری طور پر اس کو منظور کیا جائے۔نئے صوبوں کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے۔اور پورے ملک میں جنوبی پنجاب، بہاولپور، پوٹھوہار سمیت نئے صوبے بنائے جائیں۔سینئر رہنماء سینیٹر طلحہ محمود نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین کروڑ کی آبادی تھی تب بھی چار صوبے تھے اور آج 22 کروڑ ہو گئے ہیں تب بھی چار ہی صوبے ہیں۔

قانون عوام کی سہولت کے لیے ہوتا ہے۔نہ کہ مشکل پیدا کرنے کے لیے،میں نے سینٹ میں صوبہ ہزارہ کا بل جمع کر دیا ہے۔اور۔ہم چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی سے بھی مل چکے،انھوں نے بھی اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ہزارہ کا خطہ سب سے زیادہ وسائل والا صوبہ ہو گا۔اس وقت ملک میں انرجی کابحران ہے۔ہزارہ کے ڈیم اس بحران کے حل میں سب سے زیادہ مددگار ہوں گے۔

ہزارہ سی پیک کا گیٹ وے ہے۔سیاحت سے اربوں روپے کی آمدنی ہو گی۔ہمارے پاس انڈسٹریل زون ہے۔اس کو مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ہزارہ کے عوام چل پڑے ہیں اور اب منزل سے پہلے رکیں گے نہیں۔سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو کے پی کے میں شامل کرنے کے بعد صوبہ ہزارہ کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ہم نے سینٹ میں آئینی ترمیمی بل جمع کرا دیا ہے۔

اس کو ایجنڈے پر لایا جائے۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ میں ہر حوالے سے نیا صوبہ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔مرکزی کو آرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ ہمارے ملک کی روایت ہے کہ جب تک چیخ کر کوئی بات نہ کرے تب تک کوئی نہیں سنتا۔مری میں 22 لوگ جانوں سے گئے تب انتظامی جاگی۔شاہ محمود قریشی کس طرح ہزارہ کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ہم نے اپنے خون سے تحریک شروع کی ہے۔

اب بھی اگر گزشتہ تاریخ دہرائی گء تو ہزارہ کے عوام کفن باندھ کر پارلیمنٹ کے سامنے آئیں گے۔عوام کی مشکلات کو سامنے رکھنا چاہیے۔پہلا موقع ہے جب پوری قومی قیادت اس پر متفق ہے۔مسلم لیگ ن ،جے یو آئی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ق،ایم کیو ایم ،قومی وطن پارٹی سمیت تمام جماعتیں قومی اسمبلی میں ہزارہ اور نئے صوبوں کے لیے حمایت کا یقین دلا چکے ہیں۔

اب بال حکومت کی کورٹ میں ہے۔عمران خان صوبہ ہزارہ بنائیں اور کریڈٹ بھی آپ لے لیں۔مرتضی جاوید عباسی نے پونے تین سال قبل قومی اسمبلی میں ہزارہ صوبہ کا بل پیش کیا تھا۔اب انھوں نے قواعد کے مطابق نوٹس جمع کرایا ہے۔اور اسپیکر پابند ہیں کہ وہ فوری اس کو بحث کے لیے پیش کریں۔15 فروری کو پرائیویٹ ممبر ڈے پر صوبہ ہزارہ پر بحث ہو گی۔جماعت اسلامی کے رہنماء عبدالرزاق عباسی نے کہا کہ ہزارہ صوبہ انتظامی بنیادوں پر ہے۔

ہزارہ میں سترہ سے زیادہ قبائل اور متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں۔یہ لسانی اور نسلی بنیادوں پر نہیں۔عوام کی سہولت کے لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔جماعت اسلامی صوبہ ہزارہ کی مکمل حامی ہے۔ہمارے ممبران اسمبلی اس کا بھرپور ساتھ دیں گے۔سابق صوبائی وزیر زر گل خان نے کہا کہ ہزارہ کا علاقہ انتظامی طور پر پشاور سے بہت زیادہ فاصلے پر ہیں۔اور لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے بہت زیادہ سفر کرنا پڑتا ہے۔

ہزارہ صوبہ بننے سے لوگوں مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گی.انھوں نے کہا کہ میں نے ہزارہ میں دع نئے ضلعے اور 8 تحصیلیں بنائی ہیں اور ہم صوبہ ہزارہ بھی بنائیں گے۔2005 میں نے نے تربیلا ڈیم کی رائلٹی جو سب ہمارا حصہ ہے لیکن ہزارہ کے کھاتے میں شامل نہیں تھی۔میں نے 10 فیصد رائلٹی منظور کروائی۔ہمارے ڈیم پورے ملک کی نہروں کو سیراب کر رہے ہیں۔سید قاسم شاہ نے کہا کہ ہزارہ جو ریونیو دے رہا یے اس سے ایک نئی کئی صوبے بن سکتے ہیں۔

ہمارا صوبہ ہر حوالے سے تمام شرائط پوری کرتا ہے۔اس موقع پر کراچی میں مقیم ہزارہ وال رہنماؤں،نعیم اشرف درانی،مہتدی اعوان، حاجی چن زیب خان سواتی،اعجاز کاغانی،بنارس خان سواتی،عبدالرزاق جدون،جمشید عباسی،عالم زیب تنولی،حاجی صالحین تنولی،سجاد سواتی،رفیق عباسی،منصف مشتاق، مولنا عبدالکریم عابد فاروق اعوان،ملک امجد علی اعوان،رفیق ہزاروی،چوہدری حفیظ ماسٹر جمروز نے بھی خطاب کیا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments