نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 9.75فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 12.3فیصد رہی لیکن اگر گزشتہ مہینے کے مقابلے میں دیکھا جائے تو مہنگائی کا تسلسل کم ہو رہا ہے، گورنراسٹیٹ بینک

منگل 25 جنوری 2022 00:14

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جنوری2022ء) گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے پیر کو نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے دو ماہ کے لیے شرح سود کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے پریس کانفرنس میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 9 اعشاریہ 75 پر برقرار رہے گی، مہنگائی کم کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر میں شرح سود اور بینک کے نقد کے ریزرو کو پانچ سے چھ فیصد بڑھایا گیا تھا، اس کے علاوہ کنزیومر بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے تھے جس کے تحت آٹو فنانس کے قرض کو کم کیا گیا اور ایڈوانس کی رقم کو بڑھایا گیا۔انہوں نے کہاکہ دسمبر میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کے حوالے سے ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ ان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہی پالیسی ریٹ کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کی بات ہو گی۔

(جاری ہے)

گورنر اسٹیٹ بینک نے گزشتہ دو ماہ میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیمانڈ گروتھ میں تبدیلی آ رہی ہے اور یہ پائیدار رہے گی، سالانہ بنیادوں پر مہنگائی اوپر ہی رہے گی کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں تیل اور دیگر اشیا کی قیمتیں بہت بڑھی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا تخمینہ ہم نے کم لگایا ہے، ستمبر میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ 2.5فیصد تھی اور نومبر میں اس کی گروتھ صفر فیصد ہے، اس کا مطلب ہے کہ کچھ کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پہلے جس رفتار سے ہمارے معاشی سرگرمیوں کے اشاریے بڑھ رہے تھے اس میں کچھ بہتری آئی ہے اور وہ یہ بتا رہی ہے کہ ہماری شرح نمو پائیدار رہی۔رضا باقر نے کہا کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 12.3فیصد رہی لیکن اگر گزشتہ مہینے کے مقابلے میں دیکھا جائے تو مہنگائی کا تسلسل کم ہو رہا ہے کیونکہ نومبر میں مہنگائی کی شرح تین فیصد تھی لیکن دسمبر میں بھی قیمتیں وہی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا تجارتی خسارے جس رفتار سے بڑھ رہا تھا اب اس میں کچھ بہتری آ رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ تھوڑا کم ہونا شروع ہو گا، پچھلے دو ماہ یہ کرنٹ اکانٹ خسارہ 1.9ارب ڈالر رہا اور مزید نہیں بڑھا جبکہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نکال کر خسارے کو دیکھا جائے تو وہ ایک ارب ڈالر سے کم ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سال کرنٹ اکائونٹ خسارہ 13 سے 14ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے جو جی ڈی پی کا چار فیصد بنتا ہے لیکن اگر پیٹرولیم مصنوعات کے بغیر تجارتی خسارہ دیکھا جائے تو اسے سرپلس دیکھ رہے ہیں اور یہ خسارہ تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنانس سپلیمنٹری ایکٹ 2022 کی منظوری کی بدولت بجٹ خسارہ کم ہو گا اور ڈیمانڈ گروتھ بھی بہتر ہو گی جس سے مہنگائی کم ہونے کی توقع ہے، اسی لیے ہم نے مالی سال 2023 میں کم مہنگائی کی پیش گوئی کی ہے۔گورنراسٹیٹ بینک نے کہاکہ ان چار نکات پر غور کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مہنگائی میں کمی آئے گی اور جی ڈی پی کی شرح نمو پائیدار رہے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہماری پیش گوئی تھی کہ شرح نمو 4 سے 5فیصد کے درمیان رہے گی لیکن معاشی سرگرمیوں کے اشاریے کم اور پچھلے مالی سال کی شرح نمو زیادہ ہونے کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح نمو 4.5فیصد ہو گی۔ رضا باقرنے کہاکہ آئل کی قیمتوں پرہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے، مہنگائی کی رفتار تھمنے کی امید ہے، ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا اور بینک تجارتی خسارہ کم ہونے کی توقع ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہماری گروتھ مستحکم ہے، نومبراور دسمبرمیں مہنگائی نہیں بڑھی،فنانس سپلیمنٹری ایکٹ پاس ہونے سے بجٹ خسارہ مزید کم ہوگا، مہنگائی کی رفتارتھوڑی کم ہوگی، منی بجٹ سے مالی خسارہ کم ہوگا اور خسارہ کم ہونے سے طلب کے زور میں بھی کمی آئے گی، طلب قابو میں رہے گی تو مہنگائی کی رفتار بھی کم ہوگی۔ پریس کانفرنس میں رضا باقر نے کہا کہ رواں سال جولائی تا دسمبرافراط زر9 اعشاریہ 8 فیصد رہا، دسمبرمیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1 اعشاریہ 93 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا اور تجارتی خساروں میں آنے والے دنوں میں کمی ہوگی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ بینکوں کو حکومت کو قرضے نہ دینے سے متعلق کچھ نہیں کہا گیا، اسٹیٹ بینک ایکٹ سے مالی استحکام اور شرح نمو میں بہتری آئیگی، تیل کی عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے پر ذخائر پر دباؤ آئے گا، تیل 100 ڈالر پر بھی پہنچ گیا تو ہمارے پاس ادائیگی کے لئے ڈالرز ہیں، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی امور بہترکر لیے گئے ہیں، مڈل مین کا شرح منافع بہت زیادہ ہے، مانیٹری پالیسی مہنگائی کے لیے انتظامی امور کو نہیں دیکھتی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments