مانڈیلیز پاکستان نے سمیع واحد کو نیا منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کردیا

منگل 25 جنوری 2022 00:14

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جنوری2022ء) پاکستان کی صف اول کی کنفیکشنری کمپنی ، مانڈیلیز پاکستان نے ماہ جنوری 2022 سے سمیع واحد کو نیا منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کرنے کا اعلان کیا۔ سمیع واحد مجموعی طور پر کاروباری اور تجارتی حکمت عملی کے ذمہ دار ہوں گے۔اسنیک و بیوریج انڈسٹری کے ایک مستند ادارے کے طور پر سمیع واحد مارکیٹنگ، سیلز اور اسٹریٹجی کے میدان میں 17 سال سے زائد عرصے کا تجربہ رکھتے ہیں۔

وہ پاکستان میں مجموعی کاروباری حکمت عملی آگے بڑھانے کے ذمہ دار ہوں گے۔ سمیع واحد کی مانڈیلیز انٹرنیشنل سے طویل عرصے سے وابستگی رہی ہے، انکی ادارے سے وابستگی کا آغاز 2015 سے ہوا جب وہ اس ادارے میں شامل ہوئے اور انہوں نے مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور پاکستان (میناپ) کی مارکیٹوں میں متعدد ذمہ داریاں نبھائیں۔

(جاری ہے)

دیگر اداروں میں کام کے تجربے سے لیس انہوں نے فوڈ اور بیوریج انڈسٹری میں کامیاب کیرئیر بنایا۔

حال ہی میں ، سمیع واحد نے مانڈیلیز کے میناپ ریجن میں اسٹریٹجی لیڈ کے طور پر کاروبار کو آگے بڑھایا اور کرونا کے مشکل وقت میں کام کو نئے انداز میں ڈھالا۔ اس سے قبل، ان کا جدت، بنیادی سرمایہ کاری اور کاروباری حکمت عملی کو آگے بڑھانے کا غیرمعمولی شاندار ریکارڈ رہا ہے۔مانڈیلیز پاکستان کے نومنتخب ایم ڈی، سمیع واحد نے کہا، "میرے لئے یہ نئی ذمہ داری ایک اعزاز ہے، خاص طور پر ایسے ایسے وقت میں جب پاکستان کے لئے مواقع بڑھ رہے ہیں اور کاروبار پھیل رہے ہیں۔

ہم گزشتہ سالوں میں کمپنی کی مستحکم بنیاد قائم کرچکے ہیں اور اہم ذرائع و تدبر سے مزید آگے بڑھنے کا اظہار ہوتا ہے۔ میرا عزم یہ ہے کہ متعدد مارکیٹوں اور شعبوں میں کام کے سالوں پر مبنی تجربے اور علم کو بروئے کار لایا جائے تاکہ صارفین کے ساتھ اپنے رابطوں کو گہرا کرکے کمپنی کی ترقی کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تبدیل ہوتے چینلز میں اپنی موجودگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔

"سمیع واحد کا پاکستان سے تعلق ہے اور انہوں نے پاکستان میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ سے بیچلرز اور مارکیٹنگ میں ایم بی اے کیا ہے۔ انکی سابقہ کارکردگی اور ترقی پسندانہ سوچ کے پیش نظر انکی ماتحتی میں مانڈیلیز پاکستان مستقبل میں کئی گنا ترقی کرتا نظر آئے گا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments