چونیاں میں پولیس کی غفلت ، ایک اور بچہ اغوا ہو گیا

اغوا کار آئے اور ایک بچے کو ساتھ لے گئے۔ عینی شاہدین

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ ستمبر 12:12

چونیاں میں پولیس کی غفلت ، ایک اور بچہ اغوا ہو گیا
قصور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 ستمبر 2019ء) : چونیاں میں ایک اور بچہ اغوا ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق چونیاں میں ایک اور بچے کے مبینہ اغوا کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ اغوا ہونے والے بچے سے متعلق عینی شاہدین نے بتایا کہ اغوا کار آئے اور ایک بچے کو ساتھ لے گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ محلہ ہاشم چوک سے نامعلوم مبینہ اغواکاروں نے 2 بچوں کو اُٹھایا تھا۔

بچوں کے شور مچانے پر مقامی لوگوں نے اغوا کاروں کا پیچھا کیا جس پر مبینہ اغوا کار ایک بچے کو ساتھ لے گئے جبکہ دوسرے بچے کو بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کرفرار ہو گئے۔ عینی شاہدین نے کہا کہ اغوا کاروں سے بچنے والے بچے عمر دراز کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال چونیاں منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعہ کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج کیا اور ٹائر جلا کر سڑک بلاک کر دی جبکہ بعض مشتعل افراد نے تھانہ سٹی پر بھی پتھراؤکیا۔

(جاری ہے)

پولیس کے مطابق اسپتال میں زیر علاج بچہ عمردراز بیان بدل رہا ہے، معاملہ مشکوک لگتا ہے تاہم تحقیقات کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ تین روز قبل قصور میں لاپتہ ہونے والے 3 بچوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ایک بچہ برآمدگی سے ایک روز قبل جبکہ 2 بچے ایک ماہ قبل لاپتہ ہوئے تھے۔برآمد ہونے والی ایک لاش مکمل حالت میں جبکہ دو بچوں کے سر، ہڈیاں اور چند اعضاء برآمد ملے تھے۔

خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بچوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھیں۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ تین میں سے ایک 8 سالہ بچے کی شناخت محمد فیضان کے نام سے ہوئی ۔ جو چونیاں شہر کے رہائشی رمضان کا بیٹا تھا جب کہ 2 بچوں کی لاشیں پرانی ہونے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہیں۔ واقعہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔ جس کے بعد آئی جی پنجاب نے واقعے کی انوسٹی گیشن کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھی چونیاں واقعہ کا نوٹس لے چکے ہیں اور ڈی ایس پی چونیاں اور ایس ایچ او سٹی کو معطل کر دیا تھا۔

قصور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments