قصور، تین بچوں کے قاتل تاحال گرفتار نا ہوسکے

ہفتہ ستمبر 23:47

قصور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 ستمبر2019ء) چونیاں میں تین بچوں کے قتل کا ہونے والے انسانیت سو ززواقعہ کے ملزمان چھٹے روز بھی گرفتار نہ کئے جاسکیں جبکہ فرانزک لیب کی ٹیم نے گزشتہ تین دنوں میں 300سے زائد مشکو ک افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے مشکوک افراد کے سیمپل حاصل کرکے لیباٹریری بھجوا دیئے گئے۔ قصور پولیس و دیگر محکمے چھٹے روز بھی ننھے بچوں کے قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام دکھائی دیئے جس کے خلاف گزشتہ روز چونیاں بار نے ہڑتال کی اور ایک ریلی نکالی ،مظاہرین نے ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے امن وامان کی صورت حال کی وجہ سے بند رہے اور پولیس نے امن کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری چونیاں میں تعینات کررکھی ہے، اسی طرح ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت نے چونیاں میںامن کمیٹی کے ممبران وسول سوسائٹی کے افراد سے خصوصی میٹنگ کی اورانہیں یقین دلایا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائیگا تو دوسری جانب سپیشل برانچ کی ٹیموں نے محلہ غوثیہ کالونی چونیاں، جس سے ظلم کا نشانہ بننے والے تینوں بچوں کا تعلق ہے، گھر گھر جا کر شمارتی لسٹوں کے مطابق اہل مکینوں کی گنتی کی تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ ان گھروں سے کوئی شخص غائب تو نہیں اور اگر غائب ہے تو اسکی تصدیق کی جاسکے جبکہ چونیاں پولیس نے چار دن سے رکھے ہوئے زیر حراست 12 مشکوک افراد کو رہا نہیں کیا ہے۔

(جاری ہے)

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے تک انہیں نہیں چھوڑا جائیگااور پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے ان 12افراد میں سے ہی ملزمان شامل ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ آج سے ڈی این اے ٹیسٹوں کے رزلٹ آنا شروع ہو جائیں گے جس سے پولیس ملزمان تک پہنچ جائیگی۔

متعلقہ عنوان :

قصور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments