درہ آدم خیل میں تنازعات کے حل کونسل (ڈی آر سی )کی میرٹ اور انصاف پر مبنی فیصلوں کے سبب لوگوں کے تنازعات باہمی رضا مندی سے حل ہونے لگے

جمعہ نومبر 15:05

کوہاٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 نومبر2019ء) درہ آدم خیل میں تنازعات کے حل کونسل (ڈی آر سی )کی میرٹ اور انصاف پر مبنی فیصلوں کے سبب لوگوں کے تنازعات باہمی رضا مندی سے حل ہورہے ہیں جبکہ تھانوں اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بتدریج کم ہوتا جارہا ہے کوہاٹ کے قبائلی سب ڈویژن درہ آدم خیل میں تنازعات کے حل کونسل (ڈی آر سی )کا 10رکنی پینل باقاعدہ تشکیل دیدیا گیا ہے ۔

ابتدائی طور پردرہ آدم خیل کی ڈی آر سی کوہاٹ میں قائم تنازعات کے حل کونسل کیساتھ مل کر خدمات انجام دے گی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ کیپٹن(ر)واحد محمود نے مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے اچھی شہرت کے حامل عمائدین پر مشتمل ڈی آر سی درہ آدم خیل کا باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار درہ آدم خیل کی ممتاز شخصیت اور DRCکمیٹی نومنتخب چیئرمین ملک ہدایت اللہ آفریدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ۔

انھوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں قائم تنازعات کے حل کونسلوں (ڈی آر سی)کی طرف سے لوگوں کو تنازعات کے حل کی صور ت میں فراہم کردہ ریلیف اور مقامی قبائلی عوام کے بھر پور مطالبات کی روشنی میں ڈی پی او کوہاٹ کیپٹن(ر)واحد محمود نے تنازعات کے حل کونسل (ڈی آر سی )کا دائرہ کار نئے ضم شدہ قبائلی سب ڈویژن درہ آدم خیل تک بڑھا دیا ہے اور مختلف اقوام کے عمائدین پر مشتمل 10رکنی ڈی آر سی پینل تشکیل دیکر اس حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں درہ آدم خیل کی ڈی آر سی کوہاٹ میں قائم تنازعات کے حل کونسل کیساتھ ملکر مشترکہ خدمات سرانجام دیگی اور وقت کیساتھ ساتھ ڈی آر سی درہ آدم خیل کو اپنی مخصوص حیثیت دیکر مزید فعال کیا جائے گا۔ڈی آر سی درہ آدم خیل پینل کی تشکیل کے حوالے سے ملک ہدایت اللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ ڈی آر سی پختون روایات کی جرگہ نظام کا نعم البدل ہے جو پولیس اصلاحات کے تحت عوامی فلاح اور دلچسپی کے امور کودیکھتے ہوئے فوری اور مفت انصاف کی فراہمی کی غرض سے معرض وجود میں لائی گئی ہے ۔

ملک ہدایت اللہ آفریدی نے کہا ہے کہ تنازعات کے حل کونسل کو مکمل قانونی حیثیت حاصل ہے اور ڈی آر سی کے فیصلوں کو عدالتوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تنازعات کے حل کونسل(ڈی آر سی) کے مسلمہ کردار کی بدولت بشری حقوق اور فوری انصاف کی فراہمی کے مطلوبہ اہداف حاصل کئے جارہے ہیں۔ڈی آر سی کی میرٹ اور انصاف پر مبنی فیصلوں کے سبب لوگوں کے تنازعات باہمی رضا مندی سے حل ہورہے ہیں جبکہ تھانوں اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بتدریج کم ہوتا جارہا ہے ۔

ملک ہدایت اللہ آفریدی نے کہا کہ ڈی آر سی کوہاٹ نے صوبے بھر کے تنازعات کے حل کونسلوں کے مقابلے میں ریکارڈ فیصلے کرکے زر ،زن اور زمین کے سینکڑوں تنازعات فریقین کی باہمی رضا مندی سے ریکارڈ وقت میں حل کئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈی آر سی کی مربوط کوششوں کی بدولت فریقین آپس کی اختلافات کو ختم کرنے پر امادہ ہوئے اور کئی موقعوں پر خونی تصادم کے خطرات کا پیشگی سد باب بھی کیا گیا ہے ۔

انہوں نے قرآن وحدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کے مابین صلح کرنے والا انسان اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور دنیا وآخرت کی زندگی میںسب سے زیادہ فلاح پانے والا ہوتا۔انہوں نے درہ آدم خیل کے ڈی آر سی ممبران کو تلقین کی ہے کہ وہ بد امنی اور لوگوں کے مابین اختلافات کے خاتمے کیلئے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے آپس کی مربوط تعلقات کومزید فروغ دیں۔

کسی بھی معاملے میں وسائل کو آڑے نہیں آنے دیں ،نیک نیتی اور باہمی دلچسپی سے فریقین کے تنازعات کے مستقل حل کو ڈھونڈ نکالنے کے حوالے سے ڈی آر سی کے مطلوبہ مقاصدکے حصول میں اپنا بھر پور کردار ادا کریںتاکہ شہریوں کے حقوق کی پاسداری اور فوری انصاف کی فراہمی کے عوامل کو بروقت عملی جامہ پہنایا جاسکے اوعلاقے میں باہمی روا داری کی فضا ء پروان چڑھے۔

انہوں نے ڈی آر سی ممبران کو یقین دلایاہے کہ فریقین کے مابین کسی بھی چھوٹے یا بڑے تنازعے کو حل کرنے میںDRC کمیٹی اپنا پیشہ ورانہ کردار بھر پور انداز میں ادا کرے گی اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور ضلعی مصالحتی کونسل DRCممبر اپنی ذمے داریاں بخوبی نبھا رہا ہوںجس سے عوام وکیل اور کورٹ کچہری کے دھکوںسے نجات مل گئی ہے اوران کو انصاف میسر ہو رہا ہے انھوں نے کہا کہ عوام کی خدمت کا جذبہ میرے خون میں شامل رہا ہے رضا کارانہ طور سماجی ترقی اور امن وامان کے لئے کام کرنا میرا جنون ہے مثبت سوچ اور مساوات کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی علاقہ عوام کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔

کوہاٹ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments