کاروباروں کو حکومتی معاونت کی ضرورت ہے ‘لاہور چیمبر

بدھ اکتوبر 22:41

کاروباروں کو حکومتی معاونت کی ضرورت ہے ‘لاہور چیمبر
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اکتوبر2020ء) حکومت کو چاہئے کہ موجودہ وقت میں کاروباروں کو سہارا دے کیونکہ کرونا کی وجہ سے معاشی صورتحال ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیزی سے بدل رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں طارق مصباح نے کٹار بند روڈ انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وفد کی قیادت صدرکٹار بند روڈ انڈسٹریل ایسوسی ایشن سید محمود غزنوی کر رہے تھے ۔سینئر نائب صدر کٹاربند روڈ انڈسٹریل ایسوسی ایشن میاں محمد نواز، نائب صدر طاہر انجم، جنرل سیکرٹری چوہدری یوسف، ارشد کمال، چوہدری واجد، وسیم سرور، لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران فیاض حیدر، سجاد افضل اور ڈاکٹر ریاض احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ امریکہ، یورپ یا مشرق وسطی میں کاروباری منظرنامہ اتنا اچھا نہیں ہے جتنا ہونا چاہئے۔وہ کرونا کے اثرورسوخ سے باہر آنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس میں مزید چند مہینوں کا وقت لگے گا۔میاں طارق مصباح نے کہا کہ لاہور چیمبر بزنس کمیونٹی کی ترقی کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ''ہم نے گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ سے متعدد ملاقاتیں کیں جس میں ہم نے کاروبار کے بارے میں حکومت کے نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلیوں پر زور دیا۔

'' انہوں نے بتایا کہ حکومت 27 مزید شعبوں کو زیرو ریٹیڈ سیکٹر میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس میں فارماسیوٹیکل، چاول اور انجینئرنگ کے شعبے شامل ہیں۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ ہم لاہور میں پانی کے نرخوں پر نظرثانی کے لئے واسا کے حکام سے رابطے میں ہیں، اس سے قبل، انہوں نے کہا، وائس چیئرمین واسا نے لاہور چیمبر کا دورہ کیا اور ہم نے انہیں پانی کے نرخوں اور کاروباری برادری کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کیا ہے پانی کے نرخ اورصنعتی علاقوں میں پانی کی فراہمی سمیت دیگر مسائل کو حل کیا جانا چاہئے ۔

انہوں نے کہا ہمارا مقصد اور حکومت سے مطالبہ ہے کہ پنجاب میں پانی کے یکساں نرخ ہونے چاہئیں ''، انہوں نے کہا کہ صنعت غیر پینے کے پانی کا استعمال کرتی ہے لیکن پینے کے پانی کی قیمتیں ادا کررہی ہے جس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔میاں طارق مصباح نے کہا کہ حکومت اپنی دوستانہ پالیسیوں کے ذریعہ غیر روایتی اشیا کی برآمد کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تجارتی مشیر دنیا میں ہمارے غیر روایتی اشیاء کی برآمدات میں اضافے کے لئے کام کریں ۔سید محمود غزنوی نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ کٹار بند میں اپنا ایک آزاد صنعتی بجلی کا فیڈر ہے لیکن پھر بھی ہمیں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وولٹیج کے مسائل پیداواری عمل کو بھی متاثر کررہے ہیں۔جی ایم پی معائنہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں جی ایم پی معائنہ کروانے کے لئے خط موصول ہوئے ہیں۔

صوبائی انسپکٹر اس طرح کے معائنہ کرنے کے اہل نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ ڈریپ کا کام ہے اور اسے کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے کاروبار کرنے میں آسانی کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ برآمدی صنعت کو سبسڈی سے بجلی کا نرخ دیا جائے گا، لیکن لیسکو کے ذریعہ اس صنعت کو کوئی سبسڈی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر نے مزید کہا کہ دواسازی کے شعبے میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے، کسی موقع پر 1 یا 2 فیصد چھوٹ ہے، اور متعدد کاغذی کاموں کی وجہ سے اس سے مستفید ہونا انتہائی مشکل ہے۔سکریٹری جنرل کٹاربند روڈ انڈسٹریل ایسوسی ایشن نے کہا کہ دیسی گھی اور اس سے وابستہ صنعت پر عائد سیلز ٹیکس نے پورے شعبے کو تقریبا بند کردیا ہے ۔اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت دودھ اور فیٹ والی اشیاء کی فراہمی کرنے والوں کی سیلز ٹیکس کی رسیدیں فراہم کرنے کو کہتی ہے جو ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ غیر منظم شعبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مضمرات کی وجہ سے یہ شعبہ بند ہونے کے راستے پر ہے اور اس صنعت سے وابستہ افراد اپنی روزی معاش کے لئے اپنی جائیداد اور ذاتی سامان فروخت کررہے ہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments