اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریں2018ء میں الیکشن سے جمہوریت کے چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگا، پلڈاٹ جمہوریت ..

2018ء میں الیکشن سے جمہوریت کے چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگا، پلڈاٹ

جمہوریت نے2017ء کےچیلنجزکولیکر2018ء میں قدم رکھا،آئندہ چارہفتوں میں جمہوریت کودھچکےلگ سکتےہیں تاہم جمہوریت مزید مضبوط ہوکرسامنے آئے گی،پلڈاٹ کی2017میں معیارجمہوریت پرجائزہ رپورٹ

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری 2018ء): پلڈاٹ نے2017ء میں معیارجمہوریت پر جائزہ رپورٹ جاری کردی، جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2017ء کے دوران پاکستان میں معیار جمہوریت 2013 ء کے مقابلے میں بتدریج اپنی چکا چوندکھوتی چلی آرہی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پلڈاٹ نے بتایا کہ2013ء کے بعد پاکستان میں جمہوریت افراتفری کا شکار ر ہی ہے تاہم ملک میں جمہوریت نے 2017ء کے چیلنجز کو لیکر2018ء میں قدم رکھاہے ۔

2018ء میں عا م انتخابات کے باعث جمہوریت کے چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگا۔ پلڈاٹ کی جانب سے مرتب کردہ جائزہ رپورٹ میں 2017ء کے دوران ملک میں معیار جمہوریت پر اثر انداز ہونیوالے عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق اگر جاری رحجانات کو مد نظر رکھا جائے تو آئندہ چار ہفتوں میں جمہوریت کو دھچکے لگ سکتے ہیں تاہم جمہوریت مزید مضبوط ہو کر سامنے آئیگی ۔

(خبر جاری ہے)

2017ء کے ساتھ ہی پاکستان میں جمہوریت تاریخی طور پر اپنے طویل ترین درانیے میں داخل ہوئی لیکن گذشتہ سال جمہوریت کمزور ہو ئی ۔ پالیسی امور میں سویلین سپیس میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ ملٹری اپنے پیشہ وارانہ امور سے بڑھ کر کردار ادا کر رہی ہے جبکہ منتخب حکومت اورسیاسی قیادت کا کر دار مزید کم ہو ا ہے ۔ اگرچہ ایک طویل عرصے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے باقاعدہ ملاقاتو ں کاسلسلہ شروع کیا ہے جو کہ اہم پیشرفت ہے ۔

حکومت کی جانب سے اعلی ٰ سطحی اہم فیصلوں میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے ،اہم عہدوں کو بروقت پُر نہیں کیا گیا اور عدلیہ کی جانب سے احکامات کی روشنی میں فیصلو ں پر عملدرآمد پر مجبور ہوئی۔ فیض آباد ھرنہ اور اس کے بعد کی پیدا ہونیوالی صورتحال نے ریاست اور استحکام کیلئے اہم سوالات اٹھائے ہیں ، آئین میں تمام ریاستی اداروں کے رولز آف گیم واضح طو رپر بیان کئے گئے ہیں ۔

قومی ایکشن پلان اور دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے پاک آرمی نے اہم قربانیاں دی ہیں ، تاہم سول اور ملٹری قیادت دہشتگردی اور انتہاپسندی کی ڈھانچہ جاتی وجوہات کے خاتمے میں ناکام رہی ہے ۔ انتخابی اصلاحات اور حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم میں تاخیر کے باعث بھی پیچیدگیا ں بڑھی ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت جو بیرونی طور پر پہلے کمزور تھی۔

2017ء کے دوران انٹرا پارٹی انتخابات فقط قانونی تقاضا پورا کرنے کیلئے کرائے گئے ۔پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں 2017ء کے دوران سیاسی اور ادارہ جاتی بحرانوں کو حال کرنے میں پہلے کی طرح ناکام رہیں۔ اراکین اور قیادت کی جانب سے قانون سازی کے عمل کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ۔ بیشتر اوقات ایوانوں میں حاضری 25فیصد رہی جس کے باعث مقررہ وقت سے پہلے ایوانوں کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا پڑا۔ عدلیہ کی جانب سے مقدمات کی سماعت کے دوران غیر ضروری طور پر عوامی اور مقبول نوعیت کے ریمارکس سامنے آتے رہے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں