اسلام آباد ائیرپورٹ آمد پر نواز شریف کے ساتھ سخت برتاؤ کی تفصیلات سامنے آ گئیں

’’وہیں رک جائو‘ہلنا مت‘‘! تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی ان کی بیٹی کے سامنے تذلیل کی گئی،قومی اخبار کی رپورٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جولائی 11:39

اسلام آباد ائیرپورٹ آمد پر نواز شریف کے ساتھ سخت برتاؤ کی تفصیلات سامنے ..
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17جولائی 2018ء) اسلام آباد ائیرپورٹ آمد پر نواز شریف کے ساتھ سخت برتاؤ کی تفصیلات سامنے آ گئیں ۔تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پاکستان میں گرفتاری دینے کے لیے لندن سے پاکستان آئے۔نواز شریف اور مریم نواز کے جہاز نے لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ کیا۔اور پھر انہیں اسلام آباد لے جایا گیا میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ائیرپورٹ پر نواز شریف کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔

قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور سے اسلام آباد ایئرپورٹ آمد پر نواز شریف کے ساتھ بہت برا سلوک اور سخت برتائو کیا گیا۔سابق وزیر اعظم کو ذاتی معالج اور دوائیاں بھی ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

(جاری ہے)

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپور ٹ پر نواز شریف کی آمد کے بعد تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی ان کی بیٹی کے سامنے تذلیل کی گئی اور ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا۔

باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔جیسے ہی نواز شریف اور ان کی بیٹی خصوصی چارٹرڈ طیارے سے باہر آئے انہیں بلند آواز میں احکامات دیئے گئے کہ ’’وہیں رک جائو‘ہلنا مت‘‘۔دونوں باپ بیٹی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ متعدد کیمروں کی لائٹیں ان پر پڑ رہی تھیں۔مریم نواز نے سوال کیا کہ میڈیا یہاں کیسے آیا؟۔

بعد میں انہیں علم ہوا کہ جو لوگ متعدد رخ سے ان کی تصاویر بنا رہے تھے وہ کسی میڈیا کےنمائندے نہیں تھے۔نواز شریف اور مریم نواز کے خیال میں انہیں اکھٹا ایک ہی جگا پر لے کر جایا جائے گا لیکن دونوں کے لیے وہ حیران کن لمحہ تھا جب وہاں دو علیحدہ علیحدہ ایس یو وی ان کا انتظارکررہی تھیں۔نواز شریف نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مریم کو ان کے ساتھ ایک ہی کار میں بٹھایا جائے۔تاہم ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کردی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ یہ صرف لاجسٹک انتظامات ہیں ۔ آپ دونوں کو ایک ہی جگہ لے کر جائیں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments