اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںنگران وزیراعلیٰ پنجاب سے نائیجیریا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ..

نگران وزیراعلیٰ پنجاب سے نائیجیریا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل کی قیادت میں وفد کی ملاقات

, پاک نائیجیریا تعلقات کے فروغ، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور پاکستان میں انتخابات کے انتظامات کے امور پر تبادلہ خیال , پاکستان اور نائیجیریا کو دہشت گردی و انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا چیلنج درپیش ہے،ڈاکٹر حسن عسکری , دہشت گردی پاکستان سمیت عالمی برادری کیلئے سنجیدہ چیلنج ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کا بہادری سے سامنا کیا ہے , پاکستان کی بہادر مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر ایک تاریخ رقم کی ہے،25 جولائی کو شفاف الیکشن کرانے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ووٹر کو پرامن ماحول فراہم کیا جائے گا انتخابات میں تمام جماعتوں کو یکساں مواقع مہیا کئے جا رہے ہیں، پرامن انتخابات کی ذمہ داری بطریق احسن نبھائیں گے، نگران وزیر اعلی کی وفد سے گفتگو , لاہور کا دورہ خوشگوار اور ناقابل فراموش ہے، دہشت گردی سمیت دیگر امور میں پاکستان کے تجربات سے سیکھنا چاہتے ہیں،نائیجیرین وفد

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2018ء) نگران وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری سے منگل کو نائیجیریا کے 7 رکنی وفد نے ملاقات کی ،وفد کی قیادت نائیجیریا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل جوناتھن میلا جوما (Mr. Jonathan Mela Juma) کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ آفس میں ہونے والی ملاقات میںپاک نائیجیریا تعلقات کے فروغ، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور پاکستان میں انتخابات کے انتظامات کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان اور نائیجیریا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نائیجیرین وفد کا دورہ باہمی تعلقات کے نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔

(خبر جاری ہے)

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کے مواقع بڑھانے کے بے پناہ امکانات موجود ہیں اور اس ضمن میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سطح پر باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیئے اور تجارتی وفود کے تبادلوں سے معاشی و تجارتی تعلقات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جبکہ پاکستان اور نائیجیریا کے مابین طلبہ، اساتذہ، ڈاکٹرز، سول سرونٹس اور میڈیا کے وفود کے تبادلے بھی ہونے چاہئیں اور باہمی تعلقات میں اضافے کیلئے میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

باہمی رابطوں میں اضافے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ایک زرعی صوبہ ہے اور صوبہ پنجاب کی معیشت زراعت پر مشتمل ہے۔ اس شعبے میں بھی پاکستان اور نائیجیریا باہمی تعاون کے مواقع کا جائزہ لے کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا ذکر کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان سمیت عالمی برادری کیلئے سنجیدہ چیلنج ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کا بہادری سے سامنا کیا ہے اور پاکستان کی بہادر مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے اس جنگ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر ایک تاریخ رقم کی ہے۔ نائیجیریا کو بھی انتہاپسندی کے عفریت کا سامنا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور نائیجیریا کو دہشت گردی و انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا چیلنج درپیش ہے اور دونوں ممالک دہشت گردی و انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے سماجی و معاشی مسائل حل کرنے سے دہشت گردی و انتہاپسندی کو ختم کیا جاسکے گا اور اس کیلئے نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع مہیا کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے نوجوان انتہائی ذہین اور باصلاحیت ہیں اور انہوں نے ہر موقع پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

نوجوانوں کو ہنرمند بنا کر مارکیٹ فورس بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ پاکستان سی پیک روٹ کے ذریعے چین سے گوادر تک بہترین مواصلاتی رابطہ فراہم کر رہا ہے اور سی پیک کے تحت پاکستان میں اکنامک، انڈسٹریل زونز، پاور جنریشن یونٹس اور مواصلاتی پراجیکٹس پر کام جاری ہے اوراس سے دیگر ممالک بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ چین نے افریقہ کیلئے بھی سرمایہ کاری کا شاندار پیکیج دیا ہے اور افریقی ممالک کیلئے چین کی سرمایہ کاری روشن مستقبل کی نوید ہے۔ نگران وزیراعلیٰ نے صوبے میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کی تیاریوں اور انتظامات سے وفد کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی کو منصفانہ اور شفاف الیکشن کرانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پولنگ ڈے پر ووٹر کو پرامن ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکے اور قومی ذمہ داری ادا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں تمام جماعتوں کو یکساں مواقع مہیا کئے جا رہے ہیں اور نگران حکومت شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ 25 جولائی کو عام انتخابات کا پرامن انعقاد ہماری ذمہ داری ہے جسے بطریق احسن نبھائیں گے۔

نائیجیرین وفد کے سربراہ جوناتھن میلا جوما نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بہت شاندار ملک ہے اور یہاں کے لوگ محبت کرنے والے ہیں۔ لاہور کا دورہ خوشگوار اور ناقابل فراموش تجربہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے سمیت دیگر امور میں پاکستان کے تجربات سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاک نائیجیرین تعلقات میں مزید گرمجوشی چاہتے ہیں اور ٹیکسٹائل سیکٹر سمیت دیگر امور میں کاروباری تعاون کے مواقع کا جائزہ لیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں