پی ٹی آئی کا 30 اکتوبر 2011 کا یادگار جلسہ کس نے کروایا تھا؟ حیران کن شخصیت کا نام سامنے آ گیا

میں 2011 میں پارٹی میں شامل نہیں تھا خان صاحب اور میاں محمودالرشید میرے پاس آئے اور کہا کہ جلسہ کروانے میں ہماری مدد کریں،30 اکتوبر 2011 کا جلسہ میں نے ہی کروایا تھا، پی ٹی آئی رہنما علیم خان کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات جولائی 11:59

پی ٹی آئی کا 30 اکتوبر 2011 کا یادگار جلسہ کس نے کروایا تھا؟ حیران کن شخصیت ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 جولائی 2018ء) :پی ٹی آئی کا 30 اکتوبر 2011 کا یادگار جلسہ کرنے والی شخصیت کا نام سامنے آ گیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کو اکثر عمران خان کی اے ٹی ایم کہا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ علیم خان عمران خان کے لیے دل کھول کر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔جس وجہ سے علیم خان پارٹی پر بھی گہرا اثر رکھتے ہیں۔اسی متعلق جب علیم خان سے پوچھا گیا کہ آپ کوعمران خان کا اے ٹی ایم کہا جاتا ہے۔

اور آپ اس کو پارٹی پر اپنا اثرقائم کرنے کے لیے استعمال بھی کرتے ہیں؟۔تو اس کا جواب دیتے ہوئے علیم خان کا کہنا تھا کہ 2011ء کی بات ہے جب میں تحریک انصاف میں شامل نہیں تھا۔اور عمران خان اور محمود الرشید میرے پاس آئے تھے اور کہا کہ ہم نے لاہور میں ایک جلسہ کروانا ہے اس کے لیے مدد فراہم کریں تب میں پی ٹی آئی میں شامل نہیں تھا لیکن پھر بھی میں نے پی ٹی آئی کا 30 اکتوبر 2011ء کا جلسہ کروایا تھا۔

(جاری ہے)

اور میں اس جلسے کا خرچہ اٹھایا تھا۔میرے کچھ دوست بھی میرے ساتھ شامل تھے۔کسی نے کرسیوں کا خرچہ اٹھا لیا تو کسی نے لائٹس کا اور کسی نے اسٹیج کا خرچہ اٹھا لیا۔اور مجھے یاد ہے کہ میرے ایک دوست نے اس جلسے میں 25ہزار جھنڈے لگوائے تھے۔علیم خان کا کہنا تھا کہ جب قائداعظم کو لوگ پاکستان بنانے کے لیے مالی مدد فراہم کرتے تھے تو لوگ یہ نہیں سوچتے تھے کہ ہم قائداعظم کو سپورٹ کر رہے ہیں بلکہ وہ پاکستان کے لیے یہ سب کرتے تھے اس لیے میں بھی عمران خان کے ذاتی فائدے کے لیے کچھ نہیں کرتا تھا بلکہ مجھے عمران خان کا نیا پاکستان بنانے کے لیے مقصد پسند آیا تھا۔

اور اگر مجھے پی ٹی آئی سے کوئی فائدہ لینا ہوتا تو پانچ سال ہماری کے پی کے میں حکومت رہی تو میں وہاں جا کر کوئی ٹھیکہ لے لیتا۔اس لیے میں نے یا میرے اہل خانہ میں سے کسی نے بھی پی ٹی آئی کی حکومت سے ایک مرلے کا بھی فائدہ نہیں لیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments