اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںنواز شریف کو جیل بھیجنے کا فیصلہ 4 سال قبل ہی کر لیا گیا تھا عدالت عظمیٰ ..

نواز شریف کو جیل بھیجنے کا فیصلہ 4 سال قبل ہی کر لیا گیا تھا

عدالت عظمیٰ کے ایک جج نے دو سال پہلے وزیراعظم نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے جوش خطابت میں کہا تھا کہ اڈیالہ جیل میں ان کیلئے ابھی کچھ جگہ خالی ہے، معروف کالم نگار طارق بٹ کا اپنے کالم میں اظہار خیال

لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20جولائی 2018ء) معروف کالم نگار طارق بٹ کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جیل بھیجنے کا فیصلہ 4 سال قبل ہی کر لیا گیا تھا۔ایک جج نے یہ بھی کہا تھا کہ نواز شریف کے لیے اڈیالہ جیل میں جگہ خالی ہے۔تفصیلات کے مطابق معروف کالم نگار طارق بٹ کا اپنے ایک کالم " خیالی پلاؤ" میں کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی دختر مریم اور داماد کیپٹن (ر) صفدر جیل چلے گئے ہیں۔

گزشتہ 4 سال سے یہی پلان تھا کہ ہرصورت معزول وزیراعظم کو جیل میں بند کرنا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے ایک جج صاحب نے بھی کوئی دو سال پہلے وزیراعظم نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے جوش خطابت میں کہا تھا کہ اڈیالہ جیل میں ان کیلئے ابھی کچھ جگہ خالی ہے۔ نوازشریف اور مریم جیل جانے سے بھاگے نہیں ہیں بلکہ خود فیصلہ کرکے کال کوٹھڑی میں بند ہونے لندن سے پاکستان آئے۔

(خبر جاری ہے)

یہ طرہ امتیاز کم ہی سیاستدانوں کے حصے میں آتا ہے اور آمر تو ایسے حالات میں ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگتے رہتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال پرویز مشرف کی ہے۔طارق بٹ کا اپنے کالم میں مزید کہنا تھا کہ پہلے نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے باہر پھینکا گیا، پھر ان کے الیکشن لڑنے پر زندگی بھر کی پابندی لگا دی گئی، پھر ان کو ن لیگ کی صدارت سے ہٹا دیا گیا، پھر انہیں 11 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور اب جیل میں وہ سلوک کیا جارہا ہے جو ان قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جو کہ انتہائی گھنائونے جرائم میں ملوث ہوں۔

یاد رہے ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی طرف سے سزا سنائی گئی تھی۔نواز شریف کے ساتھ ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بھی قید و جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔تینوں مجرم اس وقت اڈیالہ جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں