انتخابات میں عوام ملک کی اہم ترین سیاسی جماعتوں کے سرپرست اور اپنے چند پسندیدہ ترین رہنمائوں کو منتخب کرنے سے محروم رہیں گے

اس بار (ن) سمیت کم سے کم 2درجن سیاسی پارٹیوں کے قائد، سرپرست، چیئرمین، صدر اور سربراہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے

ہفتہ جولائی 14:39

انتخابات میں عوام ملک کی اہم ترین سیاسی جماعتوں کے سرپرست اور اپنے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جولائی2018ء) عام انتخابات میں ملک کی اہم ترین سیاسی جماعتوں کے سرپرست اور اپنے چند پسندیدہ ترین رہنمائوں کو منتخب کرنے سے محروم رہیں گے،،انتخابات کے لیے اہل رجسٹرڈ 122سیاسی جماعتوں میں سے اس بار مسلم لیگ (ن) سمیت کم سے کم 2درجن سیاسی پارٹیوں کے قائد، سرپرست، چیئرمین، صدر اور سربراہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لے لے رہے جن میں ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف، سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف، سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین ،جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے 68الہ سالہ نواز شریف سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد انتخابی مہم سے دور ہوگئے ہیں۔

(جاری ہے)

نواز شریف پہلی مرتبہ 1990 سے 1993، دوسری مرتبہ 1997 سے 1999 جبکہ تیسری اور آخری مرتبہ 2013 سے جولائی 2017 تک ملک کے وزیراعظم رہے۔سابق صدر مملکت 74 سالہ پرویز مشرف نے انتخابات سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ نہ صرف عام انتخابات میں حصہ لیں گے بلکہ وہ جیت کر پاکستان کی قسمت بھی بدلیں گے۔

پرویز مشرف اس وقت خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور وہ عام انتخابات کی دوڑ سے بھی باہر ہیں۔البتہ ان کی سیاسی جماعت کے صدر ڈاکٹر امجد سمیت درجنوں امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ( فنکشنل )کی یہ روایت رہی ہے کہ ان کے سرپرست انتخابات میں حصہ نہیں لیتے۔پیر پگارا صبغت اللہ شاہ راشدی سے قبل پارٹی کے سرپرست رہنے والے حروں کے چھٹے روحانی پیشوا سید شاہ مردان شاہ ثانی نے بھی کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اپنی روایات کو برقرا رکھتے ہوئے حالیہ پیر پگارا بھی خود انتخابی میدان میں نہیں اترے تاہم ان کی قیادت میں درجنوں امیدوار گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے پرچم تلے الیکشن لڑ رہے ہیں۔پاکستان عوامی تحریک کے سرپرست ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔پی اے ٹی کے سرپرست 74 سالہ طاہر القادری 2004 میں رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، تاہم وہ 2008 اور 2013 کی طرح اس بار بھی انتخابات میں ذاتی طور پر حصہ نہیں لے رہے۔

ماضی میں مختصر مدت کے لیے ملک کے وزیراعظم سمیت وفاقی وزیر داخلہ رہنے والے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ72 سالہ چوہدری شجاعت حسین بھی اس بار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔وہ 2009 سے 2015 تک سینیٹر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ ان کا شمار ملک کے اہم ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس مرتبہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقتول بیٹے مرتضی بھٹو کی لبنانی نژاد بیوی غنوی بھٹو اگرچہ آج تک رکن ایوان منتخب نہیں ہوئیں تاہم وہ ماضی میں انتخابی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کرتی رہیں۔

کچھ اسباب کی بنا ء پر ماضی میں ان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوتے رہے تاہم اس بار انہوں نے انتخابات میں خود ہی حصہ نہیں لیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق صحت کی خرابی کی وجہ سے انہوں نے 2018 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت کے خلاف نومبر 2017 میں لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کرنے اور پھر دارالحکومت میں احتجاجی دھرنے دے کر حکومت کو مشکل میں ڈالنے والے تحریک لبیک پاکستان کے سرپرست خادم حسین رضوی بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔

ان کی پارٹی کے متعدد امیدوار ملک کے چاروں صوبوں سے قومی و صوبائی حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں، خادم حسین رضوی ان کی انتخابی مہم میں بھی نظر آتے ہیں تاہم وہ خود امیدوار نہیں ہیں۔پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ جسٹس(ر) افتخار محمد چوہدریبھی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔افتخار چوہدری کی فوجی آمر پرویز مشرف کی جانب سے 2007 میں معزولی کے بعد بحالی نے جہاں ملک میں سیاسی بھونچال پیدا کیا، وہیں 72 سالہ افتخار چوہدری 2013 میں عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی طور پر متحرک نظر آئے لیکن اس کے باوجود وہ اس بار الیکشن نہیں لڑ رہے۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق ماضی میں سینیٹر رہ چکے ہیں جبکہ انہیں بھی ملک کے اہم ترین سیاستدانوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم اس بار 80 سالہ مولانا سمعیع الحق خود انتخابات نہیں لڑ رہے۔مجلس وحدت المسلمین کے سیکرٹری جنرل راجہ ناصر عباس بھی اس بار عام انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ پروفیسر ساجد میر جو خود ایک پارٹی کے امیر ہیں، وہ اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر ہیں، ساجد میر پہلے بھی سینیٹر رہ چکے ہیں۔

علامہ ساجد میر 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔ نیشنل پارٹی کے صدر میر حاصل بزنجو کا شمار ملک کے اہم ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے تاہم وہ بھی سینیٹر ہونے کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے تاہم ان کی جماعت کے کئی امیدوار انتخابی میدان میں اتریں گے۔سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب عدالت سے سزا ملنے کے بعد انتخابی دوڑ سے باہر ہو گئی ہیں۔ مریم نواز نے حلقہ این اے 127سے کاغذات نامزدگی جمع کر رکھے تھے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments