نوازشریف کی خارجہ پالیسی سے دریا خشک، شہبازشریف کی وجہ سے عوام گندا پانی پینے پر مجبور ہیں‘پرویزالٰہی

جو ملک و قوم کا خیر خواہ نہیں وہ محب وطن کیسے ہو سکتا ہے، دونوں بھائیوں نے مل کر عوام کو بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے‘ گجرات میں جلسہ سے خطاب

ہفتہ جولائی 18:32

نوازشریف کی خارجہ پالیسی سے دریا خشک، شہبازشریف کی وجہ سے عوام گندا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جولائی2018ء) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ نوازشریف کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج ہمارے دریا خشک ہیں جبکہ پنجاب میں شہبازشریف نے عوام کو گندا پانی پینے پر مجبور کر دیا ہے، دونوں بھائیوں نے مل کر عوام کو بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ گجرات میں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کے مشترکہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی قلت شریفوں کی وجہ سے ہے، خشک دریا نوازشریف کی خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جو ملک کا خیرخواہ نہیں وہ محب وطن کیسے ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے شیخ چلی والے منصوبے عوام کے سامنے آ چکے ہیں، عوام ان سے پوچھے کہ بھاشا ڈیم کو دس سال تک کیوں روکے رکھا، اس کا آغاز ہم نے کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کرنے والے آج خود اس کا شکار ہیں، دس سال وزیراعلیٰ رہنے والے شہبازشریف عوام کو بتائیں کہ انہوں نے جیلوں میں کیا اصلاحات کی ہیں کہ آج ان کے بھائی نوازشریف جیل میں سہولتیں نہ ملنے کا شکوہ کر رہے ہیں، ہارس ٹریڈنگ کرنے والے نوازشریف کے ساتھ آج وہی کچھ ہو رہا ہے جو وہ دوسروں کے ساتھ کرتے رہے۔

چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے اس لیے ہم عوام کی خدمت قومی فریضہ سمجھ کر کرتے ہیں، آئندہ بھی انشاء اللہ موقع ملا تو عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے جب اس کے حکمران کرپٹ نہ ہوں، اللہ کا خوف ہو اور ہر کام یہ سمجھ کر کریں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بطور وزیراعلیٰ میں نے پنجاب اور پاکستان کی تاریخ میں ایسے کام کیے کہ تین تین بار حکومت کرنے والے بھی ایسے کام نہ کر سکے۔ پی ٹی آئی کے پی پی 31 سے امیدوار چودھری سرور سلیم جوڑا نے بھی جلسہ سے خطاب کیا جبکہ سید فریاد شاہ، چودھری مستنصر احمد بانٹھ، چودھری احمد علی بانٹھ، چودھری ساجد لانہیکا سمیت دیگر رہنما بڑی تعداد میں موجود تھے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments