اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںمجرم نواز شریف کی عدالت پیشی پر قوم نہیں قاتل اور کرپٹ سکتے میں ہیں‘ڈاکٹر ..

مجرم نواز شریف کی عدالت پیشی پر قوم نہیں قاتل اور کرپٹ سکتے میں ہیں‘ڈاکٹر طاہر القادری

, نیب صرف ریفرنس بنانے تک محدود نہ رہے،لوٹی دولت واپس قومی خزانے میں آنی چاہیے‘گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اگست2018ء)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ مجرم نواز شریف کی عدالت پیشی پر قوم نہیں قاتل اور کرپٹ ٹولہ سکتے میں ہے۔اشرافیہ سیاسی نہیں معاشی جرائم پر جیلوں میں بند ہے۔نواز شریف کی بکتر بند گاڑی پر سوال اٹھانے اور مگر مچھ کے آنسو بہانے والے گرفتاری والے دن ائیر پورٹ بھی نہیں پہنچے تھے۔

عوام14 بے گناہوں کے قاتل اور کمپنیاں بنا کر پنجاب لوٹنے والے قاتل اعلیٰ پنجاب کی گرفتاری کے منتظر ہیں۔نیب ریفرنس دائر کرنے تک محدود نہ رہے کیسز کے فیصلے اور ریکوری زیادہ اہم ہے اگر لوٹی گئی قومی دولت واپس خزانے میں نہ آئی تو پھر اس سارے احتسابی شور شرابے کا ملک و قوم کو کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔

(خبر جاری ہے)

میگا ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ملک لوٹنے اور اسے گروی رکھنے والے کسی رو رعائت کے مستحق نہیں ہیں۔

قائد اعظم ؒ کے پاکستان کو چوروں ،قاتلوں ،لٹیروں سے پاک کرنا ہی بہترین قومی خدمت اور وطن سے محبت ہے ۔وہ گزشتہ روزسینئر رہنمائوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کر رہے تھے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ پاکستان تاریخ کے بد ترین قرضوں کے بوجھ تلے ہے۔ سود کی سالانہ ادائیگی کی رقم چاروں صوبوں کے تعلیم کے بجٹ سے زیادہ ہے،جن سیاستدانوں نے ملک کو گروی رکھا اور اسکی آزادی پر سوالیہ نشان لگایا وہ قوم کے مجرم ہیں اور وہ آج یوم آزادی نہ منانے کی باتیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتساب کے بغیر نہ ملک آگے بڑھے گا اور نہ جمہوریت مضبوط ہو گی۔انہوں نے یوم آزادی کے حوالے سے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کی حفاظت،ایماندار قیادت اور مضبوط اداروں سے ہی ممکن ہے۔آج کی اپوزیشن نے اپنے اپنے شخصی اقتدار کو نا قابل شکست بنانے کیلئے قومی دولت کا بے رحمی سے استعمال کیا اور اداروں کو کمزور کیا۔

آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جامع اصلاحات کے ذریعے اداروں کو آئین و قانون کے تحت مکمل آزادی دی جائے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ایمانداری،اہلیت اور جہد مسلسل کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ٹھہر سکتی۔1947 کے بعد پاکستان کے پاس پہلے سال تنخواہیں ادا کرنے کیلئے پیسے نہیں تھے اور تحریک پاکستان کی ایماندار اور پر عزم سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے سخت محنت اور سادگی اختیار کر کے دوسرے سال پاکستان کو معاشی اعتبار سے پائوں پر کھڑا کر دیا تھا ۔

آج کی سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کو اپنے اندرتحریک پاکستان والا جذبہ پیدا کر کے مسائل پر قابو پاسکتی ہے۔بانی پاکستان نے اقربا پروری،چوربازاری،ذخیرہ اندوزی کی سماجی برائیوں کو سختی سے کچلنے اور ہر سطح پر سماجی انصاف کی اہمیت اجاگر کی تھی۔بانی پاکستان کے انہی رہنماء اصولوں پر عمل پیرا ہو کر بحرانوں سے نجات حاصل کیا جا سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں