اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںدارالامان میں حوا کی بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں گزشتہ روز دارالامان ..

دارالامان میں حوا کی بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں

گزشتہ روز دارالامان سے 19سالہ لڑکی کے فرار ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر علی اکبر نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا

لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 اگست 2018ء) : میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روزدارالامان سے فرار ہونے والی لڑکی کو پکڑ کر اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔دارالامان سے فرار ہونے والی لڑکی نے الزام عائد کیا تھا کہ دارالامان میں اس کی عزت محفوظ نہیں ہے۔ڈپٹی کمشنر علی اکبر نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ڈیرہ غازی خان میں دارالامان سے لڑکی کے فرار ہونے اور عملے پر الزام کے متعلق تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ اگر لڑکی کے الزامات درست ثابت ہوئے تو دارالامان کے عملے کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے گزشتہ روز دارالامان سے 19 سالہ لڑکی فرار ہو گئی تھی۔متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا تھا کہ اُس کی عزت محفوظ نہیں وہ دارالامان میں رہنا نہیں چاہتی۔

(خبر جاری ہے)

دارالامان کی انچارج کا کہنا ہے کہ لڑکی کے لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں، رضا مندی پر لڑکی کو اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا، مذکورہ لڑکی ایک روز قبل اپنے گھر سے فرار ہوکر تھانے آئی تھی۔

جہاں اس کا کہنا تھا کہ گھر والے اسے غیرت کے نام پر ماردیں گے، لڑکی کو علاقہ مجسٹریٹ کی ہدایت پر دارالامان منتقل کیا گیا تھا۔متاثرہ لڑکی کی اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔جس میں وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سب کو سنا رہی ہے۔ویڈیو میں مذکورہ لڑکی کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔خدا کے لیے مجھے کوئی ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس واقعے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔جب کہ عوامی سماجی حلقوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار اورکمشنرڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ دارالامان ڈیرہ غازی خان میں ہونے والی اس غلیظ حرکات کانوٹس لیاجائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں