اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںمسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کے خلاف خطرناک منصوبہ بندی کرلی ن لیگ کے اہم ..

مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کے خلاف خطرناک منصوبہ بندی کرلی

ن لیگ کے اہم ترین رہنماؤں کی پاکستان تحریک انصاف کے اندر گروپنگ کی کوششیں

لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 اگست 2018ء): پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنی سیاسی شکست کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے بدلہ لینے کی ٹھان لی ہے اور اس کے لیے پاکستان تحریک انصاف میں لابنگ اور گروپنگ کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر انہیں بغاوت پر مجبور کر رہے ہیں ، یہی نہیں بلکہ ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بھرپور حمایت کی یقین دہانی بھی کروائی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعلٰی پنجاب کے عہدے کے لیے عثمان بزدار کی نامزدگی کے بعد ن لیگ کے اہم ترین رہنماؤں نے پاکستان تحریک انصاف کے اندر گروپنگ پیدا کرنے کے لیے نہ صرف لابنگ کی بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے کئی تگڑے اراکین اسمبلی کو یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر وہ عثمان بزدار کے خلاف کُھل کر سامنے آئیں گے اور اگر ان کی جماعت ان کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے تو ان کو ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی جانب سے بھرپور سپورٹ حاصل ہو گی اور ضمنی انتخاب میں انہیں کامیاب کروایا جائے گا اور پھر پنجاب کی حکومت اپنی بن جانے کی صورت میں انہیں حکومت میں باقاعدہ حصہ بھی دیا جائے گا۔

(خبر جاری ہے)

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں نے پاکستان تحریک انصاف کے 40 سے زائد اراکین اسمبلی سے رابطے کیے اور عثمان بزدار کی نامزدگی کے بعد جو اچانک میڈیا پر عثمان بزدار کے خلاف مہم چلی اس کے پیچھے بھی باقاعدہ مسلم لیگ ن کا ایک گروپ کام کر رہا تھا اور میڈیا کے ذریعے ایسی فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر بغاوت پیدا کرنے میں ن لیگ کامیاب ہو ۔

اس حوالے سے جب وزیراعظم عمران خان کو علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر پنجاب کے پارلیمانی اجلاس سے خود خطاب کیا اور پارٹی کے جن اراکین اسمبلی سے ن لیگ کا گروپ رابطے کی کوشش کر رہا تھا ان کو سخت ترین جواب دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی ٹیم اب بھی اسی کوشش میں ہے کہ پنجاب کی کابینہ کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر میڈیا میں نہ صرف پراپیگنڈہ کروایا جائے بلکہ جن ارکان اسمبلی کو وزارتیں نہیں ملیں، ان کو بدظن کر کے پارٹی کے خلاف کھڑا کیا جا سکے ۔

ایک خبر یہ بھی تھی کہ عثمان بزدار کے خلاف چلائی جانے والی مہم میں وہ میڈیا گروپ شامل تھا جس نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے اسلم اقبال کے حق میں انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا اور اس مہم میں علیم خان کا نام بھی آ رہا تھا ، وزیر اعظم عمران خان تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے خود علیم خان سے رابطہ کیا اور انہیں ایسی کسی مہم کا حصہ نہ بننے کی ہدایت کی اور واضح کہہ دیا کہ وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے عثمان بزدار کے نام پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ کسی صورت ان کی نامزدگی کو تبدیل نہیں کریں گے جس کے بعد اتوار کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں عثمان بزدار کو وزیرا علیٰ پنجاب منتخب کر لیا گیا۔

اور اس کے بعد سے پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنا منصوبہ بنا لیا اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو قیادت سے بد ظن کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں