اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںاحتساب عدالت: اسحاق ڈار کے 3 پلاٹوں کی قرقی کا حکم پلاٹوں کی فروخت کا ..

احتساب عدالت: اسحاق ڈار کے 3 پلاٹوں کی قرقی کا حکم

پلاٹوں کی فروخت کا اختیارصوبائی حکومت کے حوالے، 2، 2 کنال کے پلاٹوں میں ایک پلاٹ علی مصطفی ڈار، ایک تبسم ڈار اور ایک پلاٹ اسحاق ڈار کے نام پرہے

لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 اکتوبر 2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے تینوں پلاٹوں کی قرقی کا حکم دے دیا، عدالت نے اسحاق ڈاراوربیوی بچوں کے تین پلاٹ فروخت کرنے کے اختیارات صوبائی حکومت کو دے دیے ،احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے رکھا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے 3پلاٹوں کی قرقی کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے پلاٹوں کی فروخت کے اختیار ات صوبائی حکومت کے حوالے کردیے۔احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے 2، 2 کنال کے تین پلاٹ فروخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ان پلاٹوں میں ایک پلاٹ اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفی ڈار ،ایک پلاٹ ان کی اہلیہ تبسم ڈار اور ایک پلاٹ اسحاق ڈار کے نام پرہے۔

(خبر جاری ہے)

دوسری جانب حکومتی نمائندوں کی منی لانڈرنگ کی روک تھام اور برطانیہ میں زیر التواء
مقدمات کی رفتار تیز کرنے کے لئے آئندہ ہفتے لندن میں منظم اورسنجیدہ
جرائم کے انسداد کیلئے برطانوی ایجنسی کے سربراہ سے گفت و شنید ہو گی۔


وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ سابقہ حکومت نے
سوئٹزر لینڈ کی حکومت سے معاہدہ کرنے میں پانچ سال ضائع کر دیئے، سوئس
بینکوں میں پاکستانیوں کے اکاؤنٹس سے متعلق جامع معلومات کے حصول کے لئے
کام جاری ہے، سوئس اکاؤنٹس میں 200 ارب ڈالر زکا اسحاق ڈار ہی بتا سکتے
ہیں، ماضی میں ہر سال 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی رہی، احتساب کا عمل
شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اندھا دھند
قرضہ لینے کی پالیسی کے نتیجے میں اس وقت ہم 30 ہزار ارب روپے کے مقروض
ہیں، حکومتی شعبے میں کام کرنے والے بیشتر ادارے خسارے میں جا رہے ہیں ،
سرکاری شعبے میں چلنے والے اداروں اورکارپوریشنوں کا کا خسارہ ایک ٹریلین
سے زیادہ ہو چکا ہے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ سوئس اکاؤنٹس میں 200 ارب ڈالر
کا اسحاق ڈار ہی بتاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں معاہدے پر
اتفاق ہواتھا مگر یہ روبہ عمل نہیں ہوسکا تھا کیونکہ معاہدہ ہونے کے بعد
ایک من گھڑت چیز اس میں ڈال دی گئی جس پر مذاکرات کی صورت میں پانچ سے چھ
سال ضائع کر دیئے گئے۔ سوئس بینکوں کی مکمل معلومات کے لئے ہم نے جرمنی کی
حکومت سے بھی درخواست کر دی ہے، اس ضمن میں پاکستان میں تعینات جرمنی کے
سفیر سے بھی ملاقات ہوئی ہے کیونکہ جرمن حکومت نے 2010ء میں سوئس حکومت کا
لیک ہونے والا ڈیٹا خریدا تھا جس میں تمام سوئس اکاؤنٹس کی معلومات موجود
ہیں اور جرمنی بھارت سمیت 26 ممالک کے ساتھ وہ ڈیٹا شیئر کر چکا ہے،
پاکستان ن سے اس ڈیٹا کو حاصل کرنے کے لئے آج تک ریکویسٹ ہی نہیں کی گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں