اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںنیب کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا نواز ..

نیب کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا

نواز شریف سے میری ملاقات کے دوران ڈی جی نیب بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،نیب عدالت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا ہے،جیت حق اور سچ کی ہو گی، شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر گفتگو

لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 اکتوبر 2018ء) : آج نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیںڈل میں زیر حراست شہباز شریف کو نیب کے سامنے پیش کیا۔ نیب حکام نے نیب کورٹ میں شہباز شریف کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔نیب کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا مزید 10چودہ روزہ جسمانی ریماند منظور کر لیا۔ نیب پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب عدالت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا ہے۔

نیب کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا۔حق اور سچ کی فتح ہو گی۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ ضمنی انتخابات میں کامیابی نے ثابت کیا کہ عوام مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیب نے مجھے یہاں رکھا ہے وہاں کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں جب کہ شام کو مجھے چہل قدمی کے لیے باہر لے کر جایا جاتا ہے۔

(خبر جاری ہے)

جہانگیر دور کا بڑا تالا میرے دروازے پر لگا رکھا ہے۔

نواز شریف سے میری ملاقات کے دوران ڈی جی نیب بھی کمرے عدالت میں موجود تھے اور تین تین اہلکاروں کو میرے کمرے کے باہر تعینات کیا گیا ہے۔خیال رہے عدالت میں شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف نے کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیا لہٰذا ان کا مزید ریمانڈ منظور نہ کیا جائے۔عدالت میں شہباز شریف نے بھی اپنا بیان دیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ جو بات کہوں گا حلفاً کہوں گا۔



میں آپ کے صرف دو منٹ لوں گا اس کے بعد آپ کا فیصلہ قبول ہو گا۔ جب دوسری نیلامی ہوئی تو مجھے معاملے کا علم ہوا۔

نیب سے سوال کیا کہ لطیف سنز سمیت دوسرے لوگ نیلامی میں شامل تھے؟ نیب نے مجھے کاغذات دکھائے لیکن یہ نہیں بتایا کہ پہلی نیلامی میں کیا ہوا۔ میرے دور میں ہی اینٹی کرپشن نے یہ فراڈ پکڑا تھا، میں نے خود ہی یہ معاملہ اینٹی کرپشن کو بھجوایا تھا ایسے کیسے مجھ پر الزام لگا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے قوم کا لوٹا پیسہ واپس لیا ملک کی خدمت کی کیا غلط کیا؟ نیب نے ابھی تک کوئی شہادت نہیں دکھائی، میں پاکستانی ہوں اور فخر ہے، میں نے پنجاب کی خدمت کی ، ایسے کیسے مجھ پر الزام لگا دیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب ایک روپے کی کرپشن کا ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ زبانی احکامات دینے کی نیب کے بیان کی تصدیق کرتا ہوں۔ احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے ریمانڈ میں توسیع کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔ احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شہباز شریفکے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی ہے۔ جبکہ شہباز شریف کا دو روزہ راہداری ریمانڈ بھی منظور کیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں