خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے نیب لاہور کے ڈی جی شہزاد سلیم کے متازعہ ٹی وی انٹرویوز کو لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

مقدمات کسی اور ریجن منتقل کرنے، عدالت عظمی کے احکامات اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ڈی جی کو عہدے سے برطرف کیاجائے

منگل نومبر 20:15

خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے نیب لاہور کے ڈی جی شہزاد سلیم ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنماو ں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے قومی احتساب بیورو(نیب)لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کے متازعہ ٹی وی انٹرویوز کو لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے عدالت عدالیہ سے استدعا کی ہے کہ ڈی جی نیب کو عہدے سے برطرف کیاجائے اور درخواست گزاروں کے خلاف تفتیش کسی اور نیب ریجن منتقل کرنے کا حکم صادر کیاجائے۔

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں چئیرمین نیب ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال، پاکستان الیکڑانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)اور ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کو فریق بنایاگیا ہے۔ آٹھ صفحات پر مشتمل پٹیشن میں کہاگیا کہ درخواست گزاروں کا تعلق ملک کے معروف سیاسی خاندان سے ہے، ان کے والد کو سیاسی بنیاد پر شہید کیاگیا جبکہ ان کی والدہ نے بھی سیاست اور عوام کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔

(جاری ہے)

پٹیشن میں کہاگیا کہ درخواست گزاروں نے حالیہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ وہ کئی اہم عوامی عہدوں جن میں وزارتیں بھی شامل ہیں، پر فائز رہے ہیں۔ حکومت تبدیل ہونے کے بعد ان کے درخواست گزاروں کے خلاف بدنیتی اور سیاسی انتقام پر مبنی اقدامات اور مختلف انکوائریزنیب لاہور میں کی جارہی ہیں۔

نوٹس ملنے کے بعد درخواست گزاروں نے نیب سے بھرپور تعاون کیا ہے اور جب بھی ضرورت پڑی وہ نہ صرف حاضر ہوئے بلکہ پوری ایمانداری کے ساتھ مکمل تعاون بھی کیا۔ انہوں نے کہاکہ ٹھوس شواہد اور ثبوت نہ ملنے کے باوجود نیب تفتیش کار انہیں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت کسی نہ کسی بہانے مقدمے میں پھنسانے پر تلے ہوئے ہیں۔

اسی متعصبانہ رویہ کی بناپر درخواست گزاروں نے ضمانت قبل از گرفتار کے لئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ڈی جی نیب لاہور شہزاد وسیم نے تفتیشی عمل کے تمام تر تقاضوں اور ضابطہ اخلاق کو نظرانداز کرتے ہوئے سات نومبر کو مختلف ٹی وی ٹاک شوز کو انٹرویوز دئیے اوران میں درخواست گزاروں کے خلاف نہ صرف بے بنیاد الزامات عائید کئے بلکہ یک طرف اور جانبدارانہ روئیے کا کھلم کھلا اظہارکرتے ہوئے درخواست گزاروں کو مجرم ہی قرار دے دیا۔

ناانصافی، جانبداری اور غیرشفاف انداز کی بناپر چئیرمین نیب کو درخواست دی گئی کہ نیب لاہور میں زیرتفتیش مقدمات کسی اور ریجن کو منتقل کئے جائیں لیکن چئیرمین نیب اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ ڈی جی نیب درخواست گزاروں کے سیاسی مخالفین کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ جس کا واضح ثبوت ڈی جی نیب نے ٹی وی انٹرویوز میں درخواست گزاران کو ملزم قرار دے کرکیا حالانکہ ابھی ان کے خلاف معاملہ تفتیش کے مرحلے میں ہے۔

ڈی جی نیب کو ٹی وی انٹرویوز میں ایسی رائے کے اظہارکا کوئی قانونی حق نہیں خاص طورپر کسی ایسے معاملے میں جس پر ابھی تفتیش جاری ہو اور وہ بذات خود اس عمل میں شامل ہوں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈی جی نیب لاہور نے انٹرویو دینے سے قبل چیئرمین یا ڈپٹی چئیرمین سے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی۔ نیب قانون کے باب چار کی شق 4.1 میں واضح ہے کہ نیب افسران ضابطہ اخلاق کے تحت پابند ہیں کہ زیرتفتیش معاملے سے متعلق کوئی اطلاع ظاہر نہ کریں تاوقت چیئرمین یا نائب چیئرسے پیشگی اجازت لی گئی ہو۔

شق4.2 میں کہاگیا ہے کہ ایسی کسی اطلاع کے عوام پر ظاہر ہونے سے تفتیش کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ نیب کی میڈیا مینجمنٹ اور میڈیا پالیسی پر عملدرآمد کی ذمہ داری پی آر او اور سی او ایس کررہے ہیں، ڈی جی نیب لاہور اس کے مجاز نہ تھے۔ ایسا کرکے انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ کسی معاملے پر بات کرنے کا اختیار نیب کے ترجمان کا ہے۔ ڈی جی تو نیب کے ترجمان نہیں۔

پیمرا کے کلاز 22کے تحت ٹی وی چینلز کا لائسنس لینے والوں پر ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں کہ وہ کسی فرد کی ذات اور کردار کو داغدار بنانے اور بے بنیاد الزامات کی تشہیر نہیں کریں گے۔ اس قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ درخواست میں 21 اگست2018 کو عدالت عظمی کے ایک مقدمے کا حوالہ دیاگیا جس میں نیب کی جانب سے الزامات کے تحت انکوائریز کا سامنا کرنے والے افراد کو مجرم قرار دینے کی نفی کی گئی تھی۔

چئیرمین نیب کو سپریم کورٹ نے جو ہدایت کی تھی، بدقسمتی سے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی۔ لہذا درخواست گزاروں کے پاس اس کے سوا اور چارہ کار نہیں کہ وہ عدالت عالیہ سے اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے رجوع کریں گے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ نیب لاہور میں ان کے زیرتفتیش انکوائریز کو شفافیت، انصاف اور غیر جانبداری کے اصولوں کی خاطر کسی اور ریجن میں مزید کاروائی کے لئے منتقل کیا جائے۔

چئیرمین نیب کو ہدایت کی جائے کہ وہ ڈی جی نیب کے خلاف تادیبی محکمانہ قانونی کارروائی کریں اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے ارتکاب پر عہدے سے ہٹایا جائے اور ان کے بے بنیاد الزامات کو ختم کرایا جائے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ڈی جی نیب کو طلب کرکے پوچھا جائے کہ انہوں نے عدالت عظمی کے حکم کی خلاف ورزی کیوں کی اور تسلی بخش جواب نہ دینے پر توہین عدالت کی کاروائی کے تحت سزا دی جائے۔ ڈی جی نیب کو مستقل بنیادوں پر ٹی وی پر آنے سے روکا جائے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments