نیب کا شریف برادران کے خلاف اتفاق فاونڈری کیس کھولنے کا فیصلہ

چئیرمین نیب نے دوبارہ تحقیقات کے لیے قانونی ماہرین سے رائے طلب کر لی

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل نومبر 20:19

نیب کا شریف برادران کے خلاف اتفاق فاونڈری کیس کھولنے کا فیصلہ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) نیب نے شریف خاندان کے خلاف اتفاق فاونڈری کیس دوبارہ کھولنے کے لیے قانونی ماہرین سے رائے مانگ لی۔تفصیلات کے مطابق نیب نے شریف خاندان کے خلاف اتفاق فاونڈری کیس کو دوبارہ اور ازسرنو کھولنے پر غور و فکر شروع کر دیا ہے۔اس موقع پر چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اس کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے قانونی ماہرین سے رائے طلب کر لی ہے۔

واضح ہو کہ نیب نے 2015 میں شریف برادران کو نیب نے شواہد نہ ہونے پر بری کر دیا تھا۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے پاکپتن میں محکمہ اوقاف کی زمین کی الاٹمنٹ کے معاملے نواز شریف کو ذاتی حیثیت میںطلب کر لیا ہے۔1985 میں بطور وزیر اعلی نواز شریف نے پاکپتن دربار کے گرد محکمہ اوقاف کی زمین کیالاٹمنٹ کے لیے نوٹیفکیشن کو ڈی نوٹیفائی کیا تھا۔

(جاری ہے)

نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ ڈی نوٹیفکیشن کی سمری پر نواز شریف نے دستخط نہیں کیے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا آپ کو اندازہ ہے آپ کس قسم کا جواب دے رہے ہیں؟جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے 3 بار وزیر اعظم رہنے والے محترم کے بارے میں عدالت میں یہ موقف دیا ہے، مجھے پتہ ہے اس شریف آدمی کو پتہ بھی نہیں ہو گا۔چیف جسٹس نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا آپ جواب فائل کرنے سے پہلےنواز شریف سے ملے تھے؟وکیل نواز شریف نے کہا کہ دو بار ملا ہوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایک آدمی کی طرف سے آپ نے ایسا موقف لیا ہے کہ ان کا سارا سیاسی کرئیر دا پر لگا دیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی فائل میں سمری لگی ہوئی ہے جس پر نواز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پھر سارے کا سارا فراڈ ہوا ہے۔عدالت عظمی نے اس معاملے پر نواز شریف کو 4 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے.

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments