15 دسمبر تک پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مزید 4200 ڈاکٹرز اور 6200 نرسز کی بھرتی ہوگی،ڈاکٹر یاسمین راشد

میڈیکل یونیورسٹیز سے ملحقہ بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی محکمہ جاتی پریکٹس کو متعارف کرایا جا رہا ہے،وزیر صحت کا فیصل آباد کے دورے میں مختلف ہسپتالوں کا اچانک دورہ،یونیورسٹی اجلاس کی صدارت کی

منگل نومبر 23:26

15 دسمبر تک پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مزید 4200 ڈاکٹرز اور 6200 نرسز کی بھرتی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ پنجاب کی5میڈیکل یونیورسٹیز سے ملحقہ بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی محکمہ جاتی پریکٹس کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔15 دسمبر تک پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مزید 4200 ڈاکٹرز اور 6200 نرسز کی بھرتی کی جائے گی۔ منگل کو فیصل آباد کے دورے میں الائیڈ ہسپتال، ڈسٹرکٹ اور جنرل ہسپتال غلام محمد آباد کے اچانک دورے کے موقع پر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اضلاع کی سطح پر 16 ہزار پیرا میڈیکل سٹاف کی بھی این ٹی ایس سے بھرتیاں ہونگی۔

حکومت پنجاب عام مریضوں کو صحت کی بہتر طبی سہولت دینے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ 25 ضلعی اور 15 تحصیل ہسپتالوں کو اپ گریڈ کر کے جدید مشینری فراہم کر رہے ہیں۔ مریضوں کو ان کے گھروں کے قریب صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی ترجیح ہے۔

(جاری ہے)

2400 بنیادی مراکز صحت میں24 گھنٹے طبی سہولیات فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ اٹک، میانوالی، بہاولنگر، راجن پور اور بھکر میں نئے گائنی ہسپتال بنائے جائیں گے۔

وزیر صحت نے فیصل آباد کے ہسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز میں طبی سہولیات کا معائنہ کیااور ہسپتال انتظامیہ کو اعلیٰ نظم ونسق برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی اور میڈیکل ویسٹ کو احسن انداز میں ٹھکانے لگایا جائے۔ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف مریضوں کے ہر ممکن علاج معالجہ کو یقینی بنائیں۔مریض ہسپتالوں کی کارکردگی سے مطمئن نظر آنے چاہئیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ موجودہ حکومت کا مشن ہے ، شعبہ صحت میں تمام تر وسائل شفاف بنیادوں پر فراہم کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بہت جلد غریب عوام کو ہیلتھ انشورنس کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ قبل ازیں وزیر صحت نے بطور پروچانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کے اجلاس کی صدارت کی۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے امور پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی میں فکلیٹی ممبرز کی خالی اسامیوں پر جلد بھرتی کی جائے گی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments