العزیزیہ ریفرنس ایون فیلڈ سے بھی زیادہ خطرناک قرار

قانونی ماہرین کے نزدیک العزیزیہ ریفرنس میں بہت زیادہ مالی اور دستاویزی ٹریل ایسی ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا،نوازشریف کے احتساب عدالت میں جواب کے بعدکیا انٹرویو کی ٹیپ کو ریلیز کرنے کا وقت نہیں آگیا؟ سینئر تجزیہ کار محمد مالک کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ نومبر 15:18

العزیزیہ ریفرنس ایون فیلڈ سے بھی زیادہ خطرناک قرار
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 نومبر 2018ء) سینئر تجزیہ کار محمد مالک نے کہا ہے کہ قانونی ماہرین العزیزیہ ریفرنس کو ایون فیلڈریفرنس سے زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں، العزیزیہ ریفرنس میں بہت زیادہ مالی اور دستاویزی ٹریل ایسی ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا، نوازشریف کے احتساب عدالت میں جواب کے بعدکیاوقت نہیں آگیا کہ انٹرویو کی ٹیپ کو ریلیز کردیا جائے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔نوازشریف احتساب عدالت میں اپنا آخری بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں۔اس ریفرنس پر کچھ سوالات اٹھتے ہیں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنس ایون فیلڈ ریفرنس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔کیونکہ اس ریفرنس میں بہت زیادہ مالی اور دستاویزی ٹریل ایسی ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

(جاری ہے)

دوسرا یہ بڑا اہم ہے کہ شریف خاندان سارے کا سارا نیب کے ٹارگٹ پر آگیا ہے۔ نوازشریف ، مریم نواز ، نوازشریف کے داماد ، ان کے دونوں صاحبزادے ، اور اب شہبازشریف بھی نیب کی حراست میں ہیں۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہبازرہتے تھے ان کے بھی نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کردی گئی ہے۔ایسے تمام افراد جو رکن قومی اسمبلی ہوسکتا تھا یا ہونا تھا وہ تمام نیب کی زد میں ہیں۔

اگر یہ خاندان اس صورتحال سے دوچار رہتا ہے تو کیا مسلم لیگ ن کی سیاست ختم ہورہی ہے؟محمد مالک نے کہا کہ میاں نواز شریف نے نیب عدالت میں جوجوابات دیے ان میں یہ بھی ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے ہمارے جو بیانات تھے ان کو حقیقت سے نہیں جوڑا گیا۔تو کیا اب یہ وقت نہیں آگیا کہ انٹرویو کی ٹیپ کو ریلیز کردیا جائے۔العزیزیہ اسٹیل مل کی فروخت یا اس کا کسی بھی سطح پر حصہ نہیں رہا۔حسین نوازنے 6ملین ڈالر میں العزیزیہ کے قیام کا بیان میری موجودگی میں نہیں دیا۔قطری خطوط کو کبھی بھی کسی موقع پر اپنے دفاع کیلئے پیش نہیں کیا۔جے آئی ٹی نے غیرضروری طور پر بیانات کو ریکارڈ کرنے کی سخت شرائط رکھیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments