4سال بعد بھی ماں آنکھوں کے سامنے رہتی ہے، بسمہ امجد

جاننا چاہتی ہوں میری ماں قصور کیا تھا؟ چیف جسٹس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھاآپ کو انصاف ملے گا،چیف جسٹس سے کئے گئے وعدے کے مطابق میری توجہ تعلیم پر ہے ،اب چیف جسٹس اپنا انصاف کا وعدہ پورا کریں،سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہیدتنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار نومبر 19:20

4سال بعد بھی ماں آنکھوں کے سامنے رہتی ہے، بسمہ امجد
لاہور(18نومبر2018) سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہید ہونیوالی تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد نے کہا ہے کہ4 سال بعد بھی ماں آنکھوں کے سامنے رہتی ہے، جاننا چاہتی ہوں میری ماں قصور کیا تھا؟ چیف جسٹس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھاآپ کو انصاف ملے گا،چیف جسٹس سے کئے گئے وعدے کے مطابق میری توجہ تعلیم پر ہے ،اب چیف جسٹس اپنا انصاف کا وعدہ پورا کریں۔ بسمہ امجد نے مرکزی سیکرٹریٹ میں ویمن لیگ کی عہدیداروں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ایک بیان میں نے پڑھا جس میں انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ سے قبل تمام کیسز نمٹا کر جاؤں گا انہوں نے کہا کہ امید ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس بھی چیف جسٹس صاحب قوم کی بیٹی کیساتھ کئے گئے وعدے کے مطابق نمٹا کر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 8 اپریل 2018 کوچیف جسٹس سپریم کورٹ سے لاہور رجسٹری میں ملاقا ت ہوئی تھی جس میں انہوں نے میرے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا آپ تعلیم حاصل کرو اور اپنی شہید ماں کے خوابوں کو پورا کرو،انصاف کا معاملہ ہم پر چھوڑ دو،محترم چیف جسٹس صاحب کئے گئے وعدے کے مطابق میری ساری توجہ تعلیم پر ہے وہ انصاف کا وعدہ پورا کریں ۔

(جاری ہے)

اب انصاف کی فراہمی کا وقت آ گیا ہے اور آج جے آئی ٹی بنانے کے حوالے سے میری درخواست پر سماعت ہو رہی ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی از سر نو تحقیقات پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور جو سچ ہے وہ سامنے آنا چاہیے،سانحہ ماڈل ٹاؤن کارکنوں اور پولیس کا جھگڑا نہیں اسکے پیچھے سابق حکمرانوں کا دماغ، منصوبہ بندی اور احکامات ہیں۔ بسمہ امجد نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے مرضی کی جے آئی ٹی بنا کر انصاف کا خون کیا تھا میں چاہتی ہوں ایماندار افسران پر مشتمل ایک جے آئی ٹی بن جائے ا ور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ازسرنو تحقیقات ہوں۔

میں صرف شفاف تحقیقات چاہتی ہوں۔ بسمہ نے کہا کہ 4سال گزر گئے ہماری ماں ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتی ہے میں جاننا چاہتی ہوں انکی جان کیوں لی گئی اور انکا قصور کیا تھا؟ انہوں نے کہاکہ میری ماں اور پھوپھو شازیہ مرتضیٰ کو شہباز شریف کی پولیس نے گولیاں مار کر شہید کیا۔ آج کے دن تک کوئی ایک ملزم گرفتار ہے نہ کسی کو سزا ملی،کیا بے گناہ انسانی خون اتنا ارزاں ہے کہ اسکی کوئی قیمت نہیں؟انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

روزقیامت سب سے پہلے بہنے والے ناحق خون کی باز پرس ہو گی۔انہوں نے کہاکہ جنہوں نے قتل عام کروایا وہ اسکا حساب تو دیں گے مگر جن کے ذمے انصاف کی فراہمی ہے وہ اس ذمہ داری سے کب عہدہ برآں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمران جس کیس میں مرضی جیل جائیں یا سزا پائیں ہمیں اس سے غرض نہیں ہمیں اس وقت سکون ملے گا جب سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار اس کیس میں سزائیں بھگتیں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments