انتظار ختم! مریم نواز کا دوبارہ سے عوامی جلسوں سے خطاب کرنے کا فیصلہ

سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز آئندہ دنوں میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں جلسوں سے خطاب کریں گے۔ میڈیا رپورٹس

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر نومبر 12:52

انتظار ختم! مریم نواز کا دوبارہ سے عوامی جلسوں سے خطاب کرنے کا فیصلہ
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19نومبر 2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی خاموشی پر قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم اب دونوں باپ بیٹی نے ایک بار پھر سیاسی میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز پر خاموشی توڑنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔رپورٹس میں مزید بتایا جا رہا ہے کہ نواز شریف پارٹی مسائل اور شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے چند اہم فیصلے کرنے والے ہیں۔

جب کہ مریم نواز آئندہ دنوں میں سیاسی بیان بازی کے ساتھ ساتھ پنجاب اور خبیرپختونخوا میں جلسے بھی کر سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

(جاری ہے)

اس لیے وہ جلد ہی عوام اجتماع سے خطاب کریں گے۔واضح رہے اس سے قبل مسلم لیگ ن کی تنظیم سازی کیلئے قائم کمیٹی میں مریم نواز کا نام شامل نہیں کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن نے پارٹی کی تنظیم سازی کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی کی سربراہی احسن اقبال کریں گے، 18رکنی کمیٹی میں مریم نوازکا نام شامل نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نوازابھی سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں کریں گی، مریم نوازاپنی والدہ بیگم کلثوم نوازکی وفات کے باعث تاحال صدمے سے نہیں نکل سکیں۔ تاہم سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر مریم نوازجلد سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیں گی۔

جب کہ دوسری طرف مریم نواز کی اب تک کی خاموشی پر سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ساسی مبصرین کے مطابق مریم نواز جو بات بات پر ٹویٹ کرتی تھیں، اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ان کا ایک ٹویٹ بھی سامنے نہیں آیا۔نواز شریف اور مریم نواز کی اس خاموشی سے یا تو کسی ڈیل کی بُو آ رہی ہے جس کے تحت دونوں نے ہی چُپ کا روزہ رکھا ہوا ہے یا پھر اس خاموشی کو طوفان سے پہلے کا سناٹا قرار دیا جا سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ اس خاموشی کی آڑ میں مسلم لیگ ن کوئی جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی تیاری کر رہی ہوں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments