سانحہ ساہیوال کی دوسری رپورٹ میں بھی ذیشان دہشتگرد قرار

سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کی دوسری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ کی سربراہی میں تیار کی جا رہی ہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل فروری 14:55

سانحہ ساہیوال کی دوسری رپورٹ میں بھی ذیشان دہشتگرد قرار
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 فروری 2019ء) : سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی جانے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی دوسری رپورٹ میں بھی ذیشان کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی کی دوسری رپورٹ تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے اور یہ رپورٹ ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ کی سربراہی میں تیار کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے خلیل، اس کی بیوی اور13 سالہ بیٹی کا قتل غلطی سے ہوا۔

البتہ ذیشان کو جے آئی ٹی کی دوسری رپورٹ میں بھی دہشتگرد ہی قرار دیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ذیشان کے دہشت گردوں سے تعلقات سے متعلق جے آئی ٹی نے مزید شواہد اکھٹے کر لیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چونکہ ذیشان کو جے آئی ٹی کی دوسری رپورٹ میں بھی دہشتگرد ہی قرار دیا گیا ہے لہٰذا رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو جمع کروانے کے بعد ذیشان کے اہل خانہ کو کوئی امدادی رقم نہیں دی جائے گی۔

(جاری ہے)

یاد رہےکہ ذیشان کی والدہ نے بار رہا اپنے بیٹے کے دہشتگرد ہونے کا الزام مسترد کیا تھا اور حکومت سے اپیل کی تھی کہ ذیشان کو دہشتگرد قرارنہ دیا جائے کیونکہ اُس کی ایک چھوٹی بچی ہے، ذیشان کو دہشتگرد قرار دینے سے اُس کے مستقبل پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اب جے آئی ٹی کی دوسری رپورٹ میں بھی ذیشان کو کوئی کلین چٹ نہیں ملی اور جے آئی ٹی نے دوسری رپورٹ میں بھی اُسے دہشتگرد ہی قرار دیا ہے۔

ذرائع حکومت پنجاب کے مطابق حکومت پنجاب کی ہدایت پر سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کی دوسری رپورٹ چند روز میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو پیش کرے گی دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے خلیل کے بچوں کی کفالت کے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے مقتول خلیل کے بچوں کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مقتول خلیل کے اہل خانہ کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments