ملکی معیشت کے لیے سفید ہاتھی قسم کے اداروں کی نجکاری کر دینی چاہیے

یہ قومی ادارے اربوں روپے کے قرضے میں دب چکے ہیں

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات مئی 04:42

ملکی معیشت کے لیے سفید ہاتھی قسم کے اداروں کی نجکاری کر دینی چاہیے
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2019ء) معیشت کی کمر سیدھا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ڈالر کی اڑان اور مفاد پرستوں کے ٹولے کی ذخیرہ اندوزی کو مدنطر رکھتے ہوئے علما کرام بھی میدان میں آئے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے لیے سخت وعید کی خبر دی۔مگر پھر بھی یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے معیشت پر فرق پڑے گا یا نہیں۔حکومت اپنے تعیں معیشت کو بہتر کرنے کی ہردو کوششوں میں مصروف ہے۔

جس کے لیے کئی لائحہ عمل تیار کیے جا چکے ہیں۔جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ معیشت پر بوجھ بننے والے اداروں کی نجکاری کے حوالے سے حکومت نے دوٹوک موقف اپنا لیا ہے۔پی آئی اے اور سٹیل مل سمیت کئی قومی ادارے اس وقت گھاٹے میں جا رہے ہیں اور ان کے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

قومی ایئر لائن ، سٹیل ملز اور واپڈا سمیت دیگر سرکاری اداروں پر قرضوں کا بوجھ 1593 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

سرکاری ادارے عوام کی جیبوں پر بھاری پڑنے لگے۔ عوام کی خون پسینے کی کمائی سے حاصل کیا گیا ٹیکس خسارے میں ڈوبے سرکاری اداروں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔رواں مالی سال کے نو ماہ میں سرکاری ادارے مزید 294 ارب روپے کے مقروض ہو گئے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے مطابق سرکاری اداروں کے قرضے 1593 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مارچ 2019ء تک قومی ائیرلائن پر واجب الادا قرضے 156 ارب روپے، واپڈا کے قرضے 88 ارب روپے، پاکستان سٹیل ملز جو گزشتہ چار سال سے مکمل بند ہے، قرضوں کا حجم 43 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

اس کے علاوہ دیگر سرکاری ادارے اس وقت 1084 ارب روپے کے مقروض ہیں۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے قرض میں ڈوبے ان اداروں کی نجکاری میں تیزی نہ دکھائی تو یہ ادارے عوام سے وصول کیے گئے ٹیکسوں پر ہی چلتے رہیں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments