لاہور میں2روز کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد

یومِ علیؓ کے موقعہ پر دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر ڈبل سواری پر پابندی لگا دی گئی، نوٹیفکیشن جاری

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ مئی 23:45

لاہور میں2روز کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہترین۔25مئی2019ء) محکمہ داخلہ پنجاب پنجاب نے دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر لاہور میں یوم حضرت علی ؓ کے موقع پر 2 روز کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سید علی مرتضیٰ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں ڈبل سواری پر پابندی 20 اور 21 رمضان المبارک کو ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اس پابندی سے صحافی، خواتین اور بزرگ افراد مستثنیٰ ہوں گے۔ یومِ علیؓ کے موقعہ پر ڈبل سواری کی پابندی کی درخواست ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے دی گئی تھی جس کے بعد پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔سی پی او لاہورنے یوم شہادت حضرت علی ؓ کے سلسلہ میں ہونے والے جلوس ومجالس کی سکیورٹی کے انتظامات کاجائزہ لیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر انہیں جلوس و مجالس کے روٹس اور سکیورٹی کے متعلق بریف کیا گیااوراس موقع پر ہونے والے انتظامات کو چیک کیا گیا ،سی پی او لاہور نے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ امام بارگاہوں میں منعقدہ مجالس اور جلوس کے مقامات کے اردگرد تھری کارڈن سکیورٹی مامور کی جائے گی ،اردگرد چھتوں پر سنائپر تعینات کیے جائیں گے جبکہ روٹ پر یونیفارم میں پولیس ڈیوٹی کے علاوہ پولیس ملازمان سول پارچات میں بھی ڈیوٹی دیں گے ۔

جلوس اور مجالس میں شامل ہونے والے لوگوں کی بذریعہ والنٹیئر چیکنگ کی جائے گی نیز وہاں پر داخل ہونے والے لوگوں کی بذریعہ میٹل ڈیٹکٹر سے چیکنگ کی جائے گی جبکہ واک تھرو گیٹ بھی نصب کیے جائیں گے ،متعلقہ پولیس و ایلیٹ فورس کی موبائل ہائے جلوس و مجالس کے اردگرد گشت کرتی رہیں گی ۔جلوس و مجالس کے راستے میں موجود گلیوں اور چوکوں کو خاردار تار سے بند کیا جائے گا تاکہ کوئی غیر متعلقہ شخص داخل نہ ہوسکے۔ متعلقہ ٹاؤن ایس پیز اور سرکل افسران جلوس و مجالس کی سکیورٹی ڈیوٹی کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے اور تمام پوائنٹس پر پولیس ملازمان کی حاضری کو یقینی بنائیں گے ۔ جبکہ 2 روز کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments