ریاست فیصلہ کرے پی ٹی ایم کالعدم جماعت ہے یا سیاسی ہے،ڈاکٹر شاہد مسعود

پی ٹی ایم کے دو ارکان رکن اسمبلی ہیں، افطار پارٹی میں شرکت کرتے ہیں،پھرپی ٹی ایم چیک پوسٹ پر حملہ کرتی ہے،پولیس پر نہیں فوج پر حملہ کرتی ہے،ایک طرف فوج کے خلاف نعرے لگ رہے ، دوسری طرف دوجماعتوں کے رہنماء کہتے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔نجی ٹی وی میں تبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار مئی 22:49

ریاست فیصلہ کرے پی ٹی ایم کالعدم جماعت ہے یا سیاسی ہے،ڈاکٹر شاہد مسعود
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 مئی 2019ء) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کالعدم جماعت ہے یا سیاسی ہے، اس کا فیصلہ ہونا چاہیے، پی ٹی ایم کے دو ارکان رکن اسمبلی ہیں، افطار پارٹی میں شرکت کرتے ہیں،پی ٹی ایم چیک پوسٹ پر حملہ کرتی ہے،پولیس پر نہیں فوج پر حملہ کرتی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالات دیکھیں کہ افرتفری پھیلی ہوئی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ محسن داوڑ کیسے لڑسکتا ہے؟ اگر وہ نہیں لڑ سکتا توفوجی جوان زخمی کیسے ہوئے؟ محسن داوڑ وہ ہیں جنہوں نے 26ویں آئینی ترمیم پیش کی۔ وہ بل اسمبلی نے منظور بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ پی ٹی ایم کوئی کالعدم جماعت ہے ،اگر کالعدم جماعت ہے تو پھر آپریشن ہونا چاہئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مریم نواز ، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن سب ان کے ساتھ ہیں۔

اسی طرح فوج کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ کہ ان کو فنڈنگ ہورہی ہے، یہ کالعدم جماعت ہے۔ چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے، جبکہ دوجماعتوں کے رہنماء کہتے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف نے ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ خاڑ کمر واقعہ پر انتہائی افسوس ہوا۔

اللہ تعالی شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل دے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی کیلئے بھی دعا کی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ خاڑ کمر واقعہ پر سیاست قومی جرم ہوگی۔ خاڑ کمر واقعہ پر تمام حقائق پارلیمنٹ کے سامنے آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بندوقوں سے مسئلے حل نہیں ہوسکتے۔ اپنے گھر میں لڑائی، فساد اور افراتفری کا دشمنوں کو فائدہ ہوگا۔ سیاسی رہنمائی میں مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کیا جائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ خدارا پاکستان کیلئے اختلاف رائے کو دشمنی نہ بنایا جائے۔ تمام محب وطن صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments