حمزہ شہباز14روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

مسلم لیگ نون اور پولیس کے درمیان جھڑپیں

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جون 12:20

حمزہ شہباز14روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جون۔2019ء) احتساب عدالت لاہورنے رمضان شوگرملز،آمدن سے زائد اثاثے اورمنی لانڈرنگ کیس میں گرفتار پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو 26 جون تک ریمانڈ پرنیب کے حوالے کر دیاہے. نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کو گزشتہ روز گرفتار کیا اور آج انہیں لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا‘عدالت نے نیب کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا تے ہوئے حمزہ شہباز کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا.

(جاری ہے)

دوران سماعت نیب کے وکیل وارث جنجوعہ نے موقف اختیار کیا کہ کل حمزہ شہباز کو ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا جس پر فاضل جج نے استفسار کیا حمزہ شہباز کو کیا گرفتاری کی وجوہات بتائی گئی ہیں جس پر وکیل نے کہا گرفتاری کی وجوہات فراہم کی گئی ہیں. تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز کے بینک اکاﺅنٹس سے مشکوک ٹرانزیکشنز ہوئیں، 2003 میں ان کے اثاثے سوا دو کروڑ روپے تھے، انہوں نے 2006 میں ایف بی آر میں اسٹیٹمنٹ جمع نہیں کروائی تھی.

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حمزہ شہباز نے 2009 میں اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائی جس میں اضافی اثاثے ظاہر کیے گئے، ان کے اکاﺅنٹ میں باہر سے 18 کروڑ کی رقم آئی اور انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیسے کس نے بھیجے اور کن ذرائع سے کمایا. نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز سے 38 کروڑ کی رقوم کے حوالے سے تفتیش کرنی ہے، مشکوک ٹرانزیکشن کی تحقیقات کے لیے حمزہ شہباز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے.

نیب عدالت میں پیشی کے موقع پرصحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ انہوں نے اپنا فیصلہ خدا پر چھوڑ دیا ہے وہ کہہ چکے ہیں انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی وہ انشا اللہ عوام کی عدالت میں سرخرو ہوں گے. دوسری جانب نیب نے حمزہ شہبازشریف گی گرفتاری کی وجوہات پر مشتمل رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حمزہ شہباز اور دیگراہلخانہ پر سوا 3ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے، ان کے اثاثوں میں 2003 سے 2017 کے دوران کئی گنااضافہ ہوا‘حمزہ شہباز نے مختلف بینکوں میں اکاو¿نٹس کھلوارکھے تھے، حمزہ شہباز اور دیگراہلخانہ پر سوا 3ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے.

نیب رپورٹ میں کہا گیا حمزہ شہباز نے2012 سے 2015 کے دوران جائیدادیں خریدیں، ان کے اثاثوں میں 2003 سے 2017 کے دوران کئی گنااضافہ ہوا جبکہ شوگر ملز کیس میں سرکاری خزانے کو 21 کروڑ سے زائد نقصان پہنچانے کا الزام بھی ہے. خیال رہے آج آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں مسلم لیگ (ن )کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف سخت سیکورٹی حصار میں احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ، جہاں عدالت نے حمزہ شہباز کو 26 جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا.

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments