اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںنیا پاکستان بننے جارہا ہے ، غیرجانبدار نگران حکومت کاقیام آئندہ انتخابات ..

نیا پاکستان بننے جارہا ہے ، غیرجانبدار نگران حکومت کاقیام آئندہ انتخابات کے حوالے سے اہم ہے، آنے والے انتخابات میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرن آؤٹ سامنے آئے گا، اگر نگران سیٹ اپ غیرجانبدار نہ ہوا تو اسلام آباد کی طرف پرامن مارچ کریں گے،انتخابات میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کیلئے فوج کی مدد لینی چاہیے، تحریک انصاف کسی صورت میں بھی انتخابات کا التواء نہیں چاہتی، ملک کو دہشت گردی ٹیکس چوری اور کرپشن جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے ،میں نے 2009میں طالبان سے مذاکرات کا کہاتھا اس وقت مجھ پر طالبان نواز ہونے کا الزام لگایاگیا تھا،طاہرالقادری نے جو باتیں کی ہیں وہ ہم کافی عرصے سے کرتے آرہے ہیں ، طاہرالقادری کا احتجاج قبل از وقت ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان انٹرویو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔2جنوری۔ 2013ء) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ غیرجانبدار نگران حکومت کاقیام آئندہ انتخابات کیلئے اہم ہے، ملک میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے، آنے والے الیکشن ملکی تاریخ کا اہم الیکشن ہے ،نیا پاکستان بننے جارہا ہے ، آنے والے انتخابات میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرن آؤٹ سامنے آئے گا، اگر نگران سیٹ اپ نیوٹرل نہ ہوا تو اسلام آباد کی طرف پرامن مارچ کریں گے ۔

انتخابات میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کیلئے فوج کی مدد لینی چاہیے، تحریک انصاف کسی صورت میں بھی انتخابات کا التواء نہیں چاہتی،موجودہ حکومت کو نگران حکومت کے قیام کے لیے وقت دینا چاہیے ، ملک کو دہشت گردی ٹیکس چوری اور کرپشن جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے میں نے 2009میں طالبان سے مذاکرات کا کہاتھا اس وقت مجھ پر پرو طالبان ہونے کا الزام لگایاگیا تھا،طاہرالقادری نے جو باتیں کی ہیں وہ ہم کافی عرصے سے کرتے آرہے ہیں ، طاہرالقادری کا احتجاج قبل از وقت ہے ۔

(خبر جاری ہے)

بدھ کو ایک ٹی وی انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ ملک میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ضروری ہے ، اسکے علاوہ ملکی مسائل کاکوئی حل نہیں ہے ، فری اینڈ فیئر الیکشنز سے منتخب ہوکر آنے والے عوامی حکومت ہی مسائل کا خاتمہ کرسکتی ہے ، تحریک انصاف کسی صورت میں انتخابات کاالتواء نہیں چاہتی۔ آنے والے انتخابات ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں ،تبدیلی آنے والی ہے،نیا پاکستان بننے جارہا ہے ،آئندہ انتخابات میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرن آؤٹ سامنے آئے گا۔

انہوں نے کہاکہ طاہرالقادری نے تبدیلی کی بات کی ہے،یہ باتین ہم طویل عرصے سے کرتے آرہے ہیں ۔ طاہرالقادری کا احتجاج قبل ازوقت ہے۔موجودہ حکومت کو موقع فراہم نہیں کرنا چاہیے کہ یہ عوام کے سامنے خود کو شہید کے طورپر پیش کریں، اسلئے موجودہ حکومت کو نگران سیٹ اپ کے قیام کا وقت دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ حکومت میں بھی شامل ہیں اور طاہرالقادری کے مل کر انقلاب کی باتیں بھی کررہے ہیں ۔

نیوٹرل نگران حکومت ہی شفاف انتخابات کا انعقادیقینی بنا سکتی ہے ، صدر آصف علی زرداری کی زیرنگرانی شفاف اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوسکتے ۔ عمران خان نے کہا کہ الیکشن چوری نہیں ہونے دیں گے ۔ اگر نگران حکومت نیوٹرل نہ ہوئی اورکسی نے الیکشن چوری کرنے کی کوشش کی تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے ۔ آئندہ عام انتخابات میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے فوج کی مدد لینی چاہیے موجودہ حکومت دہشت گردی پر قابو اور امن وامان کی صورتحال کو یقینی نہیں بناسکتی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 2009ء میں طالبان سے بات چیت کرنے کے لئے کہا تو مجھ پر پروطالبان ہونے کا الزام لگایا گیا لیکن اب موجودہ حکومت طالبان سے مذاکرات کی باتیں کررہی ہے ۔ کیا اب یہ پروطالبان بن گئے ہیں ؟ طالبان سے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کیاجاسکتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں