اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںچوہدری شجاعت نے متفقہ چیف الیکشن کمشنر پر اعتراض کر کے بڑی سیاسی جماعتوں ..

چوہدری شجاعت نے متفقہ چیف الیکشن کمشنر پر اعتراض کر کے بڑی سیاسی جماعتوں کی توہین کی ہے، چوہدریوں کو متفقہ چیف الیکشن کمشنر قابل قبول نہیں تو وہ سیاست سے توبہ کرلیں اورعام انتخابات سے دستبردار ہوجائیں،رکن قومی اسمبلی عابد شیر علی کا چوہدری شجاعت کے بیان پر ردعمل

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔3جنوری۔ 2013ء)رکن قومی اسمبلی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں عبرتناک شکست کے بعد چوہدری برادران حواس کھو بیٹھے ہیں اور اپنی شکست کی وجوہات کا پتہ لگانے کی بجائے اب انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف واویلا شروع کردیا ہے۔جمعرات کو چوہدری شجاعت حسین کے بیان پر اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک متفقہ اور غیر متنازعہ چیف الیکشن کمشنر کو مسلم لیگ(ن) کا الیکشن کمشنر قراردے کر چوہدری شجاعت نے ملک کے سیاسی نظام اور بڑی سیاسی جماعتوں کی توہین کی ہے۔

عابد شیر علی نے کہا کہ اگرچوہدری برادران کوایک متفقہ چیف الیکشن کمشنرقابل قبول نہیں تو ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ سیاست سے توبہ کرلیں اورعا م انتخابات سے دستبردار ہوجائیں۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ چوہدری برداران نے ایسے ہی آزاد الیکشن کمیشن پرکیچڑ نہیں اچھالا بلکہ انہوں نے دیوار پر لکھی اپنی شکست کی تحریر پڑھ لی ہے۔انہیں پتہ ہے کہ ضمنی الیکشن ایک ٹریلر تھا اور پوری فلم عام انتخابات میں چلے گی۔

عابد شیر علی نے کہا کہ وہ دور گزر گیا جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے ۔ایک آمرچوہدریوں کے مشورے سے کٹھ پتلی چیف الیکشن کمشنر نامزد کردیتا تھا اور چوہدری برداران اپنی مرضی کے نتائج لے لیا کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی جماعت کے سربراہ کاایک متفقہ الیکشن کمیشن پر اعتراض معنی خیز ہی نہیں بلکہ مضحکہ خیزبھی ہے۔اگر چوہدری برادران کو الیکشن کمیشن کی آزادی اور خود مختاری پسند نہیں تو وہ چوراہے میں بین کرنے کی بجائے اپنی حلیف جماعت کے زرداری صاحب سے جا کر شکوہ کریں جن کی آئین کے تحت اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کے بعدایک نیک نام اور غیر جانبدارچیف الیکشن کمشنرمقرر کیے گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں